آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کوہستان ویڈیو کیس: بشام کی عدالت میں کیا ہوا؟
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی اور محمد زبیر خان
- عہدہ, بی بی سی اردو، بشام
ضلع کوہستان میں غیرت کے نام پر پانچ لڑکیوں کے قتل کا معاملہ ایک طویل عرصے تک گاہے بگاہے پاکستانی نیوز چینلز کے بلیٹنز کی شہ سرخیوں میں رہا لیکن جب جمعرات کو اس مقدمے کا فیصلہ سنانے کا وقت آیا تو فیصلے کی کوریج کے لیے بشام پہنچنے والے صحافیوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی تھی۔
ضلع شانگلہ کے شہر بشام میں ڈسڑکٹ اینڈ سیشن جج کوائی پالس کی عدالت میں اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور اضافی نفری بھی تعینات تھی۔
عدالتوں میں سائلین کی تعداد بھی بہت کم تھی اور موقع پر موجود پولیس اہلکار اکا دکا آنے جانے والوں سے بھی پوچھ رہے تھے کہ وہ کس مقدمے کے سلسلے میں آئے ہیں۔
اگر ان میں سے کوئی کوہستان ویڈیو سکینڈل کا ذکر کر دیتا تو اسے فوراً وہاں سے چلے جانے کو کہا جاتا رہا بلکہ کچھ کو تو پولیس اہلکار احاطہ عدالت سے خود بشام شہر تک چھوڑنے کے لیے بھیجے گئے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالتی عملے نے صحافیوں کو بھی فیصلہ سننے کے لیے عدالت کے اندر جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور کہا گیا کہ اہم اور حساس ترین مقدمہ ہونے کی وجہ سے ایسا نہیں کیا جا سکتا۔
عملے کا کہنا تھا کہ مقدمے کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد موقع پر موجود صحافیوں کو فیصلے کی کاپی فراہم کر دی جائے گئی تاہم جب فیصلہ سنا دیا گیا تو بعد میں کہا گیا کہ فوری طور پر عدالتی فیصلے کی کاپی نہیں دی جا سکتی اور اس کے لیے باقاعدہ درخواست دی جائے جس کے بعد قانونی تقاضے پورے کر کے فیصلے کی کاپی فراہم کی جائے گی۔
مقدمے کا فیصلہ سننے کے لیے تو زیادہ لوگ کیمپ کورٹ نہیں پہنچے تاہم ملزمان کی جانب سے کچھ لوگ ضرور موجود تھے جن کو پولیس بار بار وہاں سے ہٹا رہی تھی۔
اسی طرح غدر پلاس کی ان لڑکیوں کے قتل کو منظرِ عام پر لانے والے مقتول افضل کوہستانی کے بھانجے فیض الرحمان جب فیصلہ سننے عدالت پہنچے تو فیصلہ سنائے جانے کے دوران ہی پولیس اہلکار انھیں اپنے ہمراہ عدالت سے باہر لے آئے۔
فیض الرحمان کے ساتھ پہلے تو دو پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی لگائی گئی اور انھیں قریب ہی موجود پولیس کے لیے بنی ہوئی قیام گاہ میں بٹھایا گیا اور اس سے پہلے کے ملزمان کو عدالت سے واپس جیل بھیجا جاتا پولیس فیض الرحمان کو اپنی گاڑی میں بیٹھا کر بشام سے کوہستان جانے والی گاڑیوں کے اڈے پر چھوڑ آئی۔
اس سے پہلے جب ملزمان کو عدالت لایا گیا تو اس موقع پر فیض الرحمان اور ایک ملزم کے درمیان پولیس کی موجودگی میں تلح کلامی بھی ہوئی تھی جس کے بعد پولیس نے فیض الرحمان کو کچھ وقت کے لیے حفاظتی تحویل میں بھی لیا۔
پولیس کی ان احتیاطی تدابیر کی وجہ بظاہر اس مقدمے میں گذشتہ سات برس کے دوران ہونے والی ہلاکتیں ہیں جن میں تازہ ترین نام مدعی افضل کوہستانی کا ہے جنھیں رواں برس مارچ میں ایبٹ آباد میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔
تمام ملزماں کو داسو جیل کوہستان سے ساڑھے بارہ بجے کے قریب عدالت میں لایا گیا تھا اور فیصلہ سنائے جانے کے بعد تقریباً دو بجے واپس جیل لے جایا گیا۔
فیصلے کے بعد جہاں عمر قید کی سزا پانے والے تین ملزمان عمر، صبیر اور صغیر کو سنٹرل جیل منتقل کر دیا جائے گا وہیں تحریری عدالتی فیصلہ اور رہائی کی روبکار کے اجرا کے بعد بری ہونے والے پانچ افراد کی رہائی عمل میں آئے گی۔
سزا پانے والے محمد عمر خان، صغیر اور صبیر آپس میں قریبی عزیز ہیں۔ صغیر اور سیبر آپس میں سگے بھائی ہیں جبکہ محمد عمر ان کا بھانجا ہے۔
محمد عمر خان مقتولہ بیگم جان کے بھائی ہیں جبکہ سیبر باذغہ نامی مقتولہ جبکہ تطہیر قتل ہونے والے کرم جان کے والد ہیں۔
فیصلے کے بعد افضل کوہستانی کے بھانجے فیض الرحمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں یہ فیصلہ قبول نہیں ہے اور وہ اس کے خلاف اعلیٰ عدالت میں جائیں گے۔
'صرف تین کو سزا ہوئی ہے جبکہ باقی پانچ کو بری کر دیا گیا ہے۔ تو لڑکیوں کا قاتل کون ہے، یہ واضح نہیں ہوا۔ ہم اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے۔'