لائن آف کنٹرول پر تجارت کی بندش سے متاثر مزدور: ’یا تو مسئلہ حل کریں یا پھر جنگ کریں‘

،ویڈیو کیپشناعجاز احمد میر نے دعوی کیا ہے کہ ایل او سی کے دونوں جانب تجارت سے کوئی پچیس ہزار کے قریب افراد منسلک تھے

پاکستان اور انڈیا کے درمیان لائن آف کنٹرول پر کچھ عرصہ پہلے تک روزانہ کروڑوں روپے کی تجارت ہوا کرتی تھی جس سے سامان لے جانے والے سیکڑوں ڈرائیوروں اور مزدوروں کا روزگار لگا ہوا تھا۔

لیکن حالیہ کشیدگی اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کی تبدیلی کے بعد ایل او سی پر نہ صرف ہر قسم کی تجارتی سرگرمیاں معطل ہے بلکہ اس سے ایک اندازے کے مطابق سیکڑوں ڈرائیور اور مزدور بھی بے روزگار ہوچکے ہیں۔ہمارے ساتھی رفعت اللہ اورکزئی اور بلال احمد نے ایک ایسے ہی ٹرک ڈرائیور سے گفتگو کی ہے جو گزشتہ دس سالوں سے ایل سی او کے دونوں طرف سامان لے جاتے رہے ہیں۔