پی ٹی ایم کے رکن محسن داوڑ: ’احتساب کے لیے تیار ہیں لیکن ثبوت تو پیش کریں‘

    • مصنف, حمیرا کنول، عابد حسین
    • عہدہ, بی بی سی، اسلام اباد

پشتون تحفظ مومنٹ کے رہنما اور شمالی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کا کہنا ہے کہ فوج کی جانب سے ان کی تنظیم کے لیے سخت لب و لہجے کے باوجود وہ اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے اور وہ احتساب کے لیے تیار ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے پیر کو پشتون تحفظ موومنٹ کے مالی معاملات پر سوال اٹھاتے ہوئے الزامات عائد کیے تھے کہ انھیں مختلف مقامات پر احتجاج کے لیے انڈیا کے خفیہ ادارے را اور افغانستان کے خفیہ ادارے این ڈی ایس سے رقوم موصول ہوتی رہی ہیں۔

اس پریس کانفرنس کے بعد محسن داوڑ نے اپنے ردعمل میں پارلیمینٹ ہاؤس کے باہر جو بیان دیا اسے تو میڈیا پر نشر نہیں کیا گیا تاہم منگل کو قومی اسمبلی میں انھوں نے تقریر کی۔

اپنے علاقے کے مکینوں کی جبری گمشدگیوں کے بارے میں ہی ایک بل کو ایوان میں پیش کرنے سے پہلے انھوں نے بی بی سی سے گفتگو کی جس میں انھوں نے پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی پریس کانفرنس کے بارے میں کہا کہ 'ہم پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا، ہم جو اپنا بیانیہ ہے اسے آگے لے کر چلیں گے، فوج کی جانب سے مختلف اوقات میں مختلف طریقے سے بیانات سامنے آتے رہے ہیں، کل کچھ زیادہ ہی دھمکی آمیز لہجہ تھا جو کہ قابل مذمت ہے۔ ایک ایسی تحریک کے خلاف جو مکمل طور پر عدم تشدد پر مبنی ہے اور جو انسانی اور آئینی حقوق کی بات کر رہی ہے۔ اس ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ایک معمول رہا ہے مگر ہم امن کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔'

یہ بھی پڑھیے

پی ٹی ایم اور سینیٹ کی کمیٹی کے درمیان حال ہی میں ایک اہم ملاقات ہوئی تھی اور اس سے پہلے بھی کچھ رابطے ہوئے اور فوج کی جانب سے بھی پیغامات میں یہی کہا جاتا رہا کہ ’آپ اپنے لوگ ہیں اور آپ کے مطالبات بھی جائز ہیں‘۔

ایسا کیا ہوا کہ فوج کی جانب سے پی ٹی ایم کے لیے سخت لہجہ اور نہایت سخت الزامات لگائے گئے؟

محسن داوڑ کا خیال ہے کہ 'شاید انھیں یہ فکر پڑ گئی ہے کہ ان لوگوں کی مقبولیت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے اور یہ جو بیانیہ لے کر آگے بڑھے تھے لوگ اس چیز کو پہلے بھی تسلیم کر چکے تھے اور اب وہ پھیل رہا ہے۔ ریاستی بیانیے کے خلاف بولنے کی اجازت نہیں اور اسی فرسٹریشن کی وجہ سے کل زیادہ غصے میں بات کی گئی۔'

پی ٹی ایم سے لگ بھگ کتنے افراد منسلک ہیں اور فنڈنگ کا طریقہ کار کیا ہے؟

محسن داوڑ کے مطابق ’ہم نے ممبر شپ کے لیے تو کبھی کوئی مہم نہیں چلائی کہ ہمیں اصل تعداد معلوم ہو سکے لیکن آپ لوگ دیکھتے ہیں کہ ہمارے جلسوں میں لاکھوں کی تعداد موجود ہوتی ہے۔ پھر ملک سے باہر بھی لوگ ہمارے ساتھ ہیں۔ ایک ہی کال پر 50 ممالک میں بھی ہمارے احتجاج میں شریک ہوتے ہیں لوگ۔‘

را اور این ڈی ایس سے روابط کے الزامات

ڈی جی آئی ایس پی آر نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی ایم کو انڈیا کے خفیہ ادارے را اور افغانستان کے خفیہ ادارے این ڈی ایس سے رقوم موصول ہوئیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے نے سوال کیا تھا کہ' 22 مارچ 2018 کو این ڈی ایس نے آپ کو احتجاج جاری رکھنے کے لیے کتنے پیسے دیے؟'

اس کے علاوہ انھوں نے یہ سوال بھی کیا تھا کہ 'اسلام آباد میں سب سے پہلا دھرنا ہوا اس کے لیے انڈین خفیہ ایجنسی را نے پی ٹی ایم کو کتنے پیسے دیے، وہ کس طریقے سے پہنچے اور انھوں نے کہاں استعمال کیے؟'

اس بارے میں محسن داوڑ کہتے ہیں کہ جہاں تک فنڈنگ کی بات ہے تو 'جو جلسہ پی ٹی آئی کروڑوں روپے میں کرتی ہے ہم وہ ڈیڑھ دو لاکھ میں کرتے ہیں۔ اور وہ پیسے بھی ہم اسی جلسے سے اکٹھے کرتے ہیں۔ ہمارے جلسوں میں لوگ خود گاڑی کر کے آتے ہیں، ہمارے پاس تو انھیں بٹھانے کو پیسے بھی نہیں ہوتے۔'

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے بتایا کہ جلسے کے علاوہ باہر سے مختلف شعبوں سے منسلک لوگ انھیں پیسے دیتے ہیں لیکن زیادہ فنڈ جلسوں میں ہی اکٹھا ہوتا ہے۔

محسن داوڑ کہتے ہیں کہ 'اگر میں یہ کہوں کہ فلاں انڈین قونصلیٹ کے اللہ دتہ نے آصف غفور صاحب کے رشتہ دار کو اتنے پیسے دیے تو آپ جائیں ثابت کریں اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کریں۔۔۔۔ بابا ثبوت پیش کرو۔ اگر ہم ملوث ہیں، اگر ہمارا کوئی ساتھی ملوث ہے تو ثبوت پیش کرو۔ ایک ریاست ہے یہ۔۔۔ ایک سسٹم ہے یہاں۔۔۔ انھوں نے دھرنے کے وقت سے یہ باتیں شروع کی ہیں۔'

وہ کہتے ہیں کہ فوج کے پاس پی ٹی ایم کے الزامات کے جوابات نہیں ہیں اور وہ کتراتے ہیں۔

'احتساب سے ڈرنے والے ہم نہیں ہیں وہ کوئی اور ہیں۔ ہم کہتے ہیں جو دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی گئی اس کا احتساب ہونا چاہیے۔ اس کے بارے میں کہ کون اس میں ملوث تھا، کس نے اس میں چوری کی۔ کس نے لوگوں کو حبس بیجا میں رکھا، کس نے لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کیا۔'

یہ بھی پڑھیے

لیکن کیا واقعی پی ٹی ایم کا لب و لہجہ سخت نہیں؟

نعرے اور سوشل میڈیا پر لکھے جانے والے پیغامات قدرے سخت الفاظ پر مبنی ہوتے ہیں۔

محسن داوڑ نے پارٹی کارکنان اور رہنماؤں کے لہجے کا کچھ ان الفاظ میں دفاع کیا۔

'ہمارے لہجے کو آپ گالم کلوچ پر مبنی تو نہیں کہہ سکتے، سخت لہجہ اگر آپ کہیں گے تو اگر کسی کا باپ یا بھائی مرا ہے۔۔۔ ماورائے عدالت قتل ہوا ہے تو جب وہ فریاد کرے گا تو اس میں سختی تو ہو گی، وہ ہنسی خوشی تو نہیں ہو سکتا۔ یا کسی کا باپ، بھائی یا رشتے دار جبری طور پر گمشدہ کیا گیا ہے، اس کے خلاف قانونی طریقے سے کارروائی نہیں ہوئی تو سخت تو بولیں گے وہ۔'

حکومت سے آپ کی بات چیت اس وقت کس نہج پر ہے؟

اس سوال کے جواب میں محسن داوڑ نے کہا کہ اس قسم کی پریس کانفرنس سے بات چیت میں خلل پیدا ہوتا ہے۔

'دیکھیں جی مطالبات ہم دے چکے ہیں، بات چل رہی تھی، صوبائی سطح پر بھی ایک کمیٹی بنی تھی لیکن پھر اس قسم کی پریس کانفرنسز اور اس طرح کا لہجہ بیچ میں آ جاتا ہے تو مذاکرات سے ہم نے پھر بھی انکار نہیں کیا۔ لیکن اس سے پھر آگے کے سفر میں تھوڑا خلل آجاتا ہے۔'

محسن داوڑ کہتے ہیں کہ وزیرستان میں دہشت گردی لوٹ رہی ہے اور ٹارگٹ کلنگ کا کچھ عرصے سے سلسلہ بڑھ رہا ہے۔

’ہم یہ پوچھنے کی جسارت تو کر سکتے ہیں کہ کتنے دہشت گرد ہلاک ہوئے؟ میں نے جب یہ سوال قومی اسمبلی میں پوچھا تو جواب نہیں دیا گیا۔ وزیر دفاع وزیر داخلہ کو بھجواتے ہیں اور وزیر داخلہ انھیں۔ چند مہینے تک یہ سوال گھومتا رہا لیکن جواب اب تک نہیں ملا۔ آپ کو سوالات سے ڈرنا نہیں چاہیے۔ اگر جواب نہیں تو بتائیں نہیں ہے جواب، عوام آپ کو درگزر کر سکتی ہے۔‘

محسن داوڑ کہتے ہیں کہ وہ بیرون ملک اگر کسی سے ملتے ہیں تو پاکستان کا کونسا آئین اور قانون انھیں کسی پاکستانی اور بیرون ملک ایک ایسے پروفیسر سے ملنے سے روکتا ہے جو پاکستان میں آکر بھی لیکچر دے چکا ہے۔

'میں نے زندگی کیسے گزارنی ہے، میں نے کن لوگوں سے ملنا ہے، میں نے کیا فکر اور سوچ اپنانی ہے اس کا فیصلہ آصف غفور صاحب نہیں کر سکتے۔ یہ میں خود کر سکتا ہوں یہ پاکستان کے ہر شہری کا حق ہے اور جو حق پاکستان کے آئین نے ہر شہری کو دیا ہے وہ ایک ادارے کا ترجمان نہیں چھین سکتا ہم سے۔'