آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جابہ: ’انڈین حملے سے ماحول کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے‘
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے ماحولیات امین اسلم کا کہنا ہے کہ جابہ میں انڈین فضائیہ کی کارروائی سے کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا تاہم اس سے ماحولیات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔
حکومت پاکستان نے جمعرات کو ماحولیات کے لیے کام کرنے والے ملکی اور بین الاقوامی سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کو حملے کا نشانہ بننے والے علاقے کا دورہ بھی کروایا جس کا مقصد وہاں بمباری سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات سے آگاہ کرنا تھا۔
امین اسلم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان پوری طرح تیار ہے کہ وہ پوری دنیا کو بتا سکے کہ مودی کی جارحیت کو پاکستان اور اس خطے کو کیا ماحولیاتی نقصانات پہنچے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان نے اعلان کررکھا ہے کہ وہ انڈین کارروائی کے بعد انڈیا کے وزیر اعظم کو ایکو ٹیررسٹ قرار دلوانے کے لیے اقوام متحدہ سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
انڈین فضائیہ کے طیاروں نے 26 فروری کو ضلع مانسہرہ کے علاقے جابہ میں بمباری کی تھی اور کہا تھا کہ ان کا ہدف کالعدم تنظیم جیشِ محمد کا کیمپ تھا تاہم پاکستانی حکام نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انڈین بم جنگل میں گرے اور ان سے سوائے درختوں کی تباہی کے اور کوئی نقصان نہیں ہوا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صوبہ خیبر پختونخوا کے محکمۂ جنگلات اور ماحولیات نے اب اس بارے میں ایک تجزیاتی رپورٹ تیار کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انڈین طیاروں نے جابہ کے پہاڑ پر جس علاقے میں حملہ کیا وہاں ’محفوظ جنگلات‘ ہیں جنھیں ماسر ریزور فارسٹ کہا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ماسر ریزور فارسٹ کو سنہ 2015 میں بین الاقوامی منصوبے بلین ٹری منصوبے کا حصہ قرار دیا گیا تھا جس کا مقصد قدرتی ماحول اور جنگلات کی بحالی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس حملے سے ایک ایکڑ سے زیادہ علاقے کو نقصان پہنچا جہاں چیٹر کے 19 درخت گر گئے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر درختوں کو پہچنے والے نقصان کی مالیت 27 لاکھ روپے جبکہ علاقے، چھوٹے درختوں کو پہچنے والے نقصاں کا اندازہ تین کروڑ 80 لاکھ روپے لگایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اب 1.2 ایکڑ رقبے پر شجر کاری ممکن نہیں رہی ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے ماحولیات کے مطابق جابہ کا مذکورہ علاقہ محکمہ جنگلات کی ملکیت ہے جہاں پر ایک بڑے رقبے میں محفوظ جنگلات ہیں جن میں سنہ 2015 میں شروع کی جانے والے بلین ٹری سونامی کے دوران بڑے پیمانے پر توسیع کی گئی تھی۔
ان کے مطابق بلین ٹری منصوبہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونائیڈ نیشن انوارمنٹ پروگرام (یواین ای پی )کا حصہ ہے جس میں ہمارے ساتھ ڈبیلو ڈبیلو ایف، آئی یو سی این جیسے ادارے تعاون کرتے ہیں اور اس کی فعالیت کے گواہ ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ ہم نے ان اداروں کو علاقے کا دورہ کروایا کہ وہ خود بھ اندازہ کرسکیں کہ ماحولیات کو کیا نقصاں پہنچا ہے۔
امین اسلم کے مطابق پاکستان بہت جلد یو این ای پی میں درخواست دائر کرے گا کہ اس کی جانب سے نریندر مودی کو چمپیئن آف آرتھ کا جو ایوارڈ دیا گیا ہے اسے واپس لے کر انھیں ’ماحولیاتی دہشت گرد‘ قرار دیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ ’ساری دنیا جانتی ہے اور کسی سے یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ جابہ، مانسہرہ، بالاکوٹ جیسے علاقے بلین سونامی ٹری میں ہمارا ٹارگٹ تھے اور اس کا مقصد یہ تھا کہ جو منفی ماحولیاتی اثرات پیدا ہو رہے ہیں ان کو شجرکاری کے ساتھ روکا جائے اور بہتر ماحول بنایا جائے۔
’مودی کے اس حملے سے ثابت ہوا ہے کہ وہ بین الااقوامی ماحولیاتی دہشت گرد ہے اور ہم اس کو دہشت گرد قرار دلوا کر ہی دم لیں گے۔‘
جابہ میں ہے کیا؟
جابہ مانسہرہ کا پہاڑی سلسلہ ہمالیہ کے دامن میں واقع ہے اور سرکاری ذرائع کے مطابق یہاں تقریباً چھ سو ایکڑ کا رقبہ محکمہ جنگلات کی ملکیت ہے۔ اس علاقے میں بڑے پیمانے پر چیٹر کے جنگلات ہیں۔
مانسہرہ سے بالاکوٹ جاتے ہوئے جب جابہ پہنچتے ہیں تو سڑک کے دونوں جانب جابہ کے خوبصورت پہاڑوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ہمالیہ کے دامن میں واقع ان پہاڑوں کے اوپر گھنے جنگلات واقع ہیں جن کی اکثریت محکمۂ جنگلات کی ملکیت ہیں۔
انڈین حملے کا نشانہ بننے والا علاقہ گاڑی اور پیدل سفر کے بعد مرکزی مانسہرہ بالاکوٹ روڈ سے ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ مانسہرہ سے بالاکوٹ جاتے ہوئے جب جابہ بازار پہنچتے ہیں تو بالاکوٹ روڈ پر جابہ ایگری کلچر فارم کے سامنے دائیں طرف سے وہ علاقہ شروع ہو جاتا ہے جہاں پر حملہ ہوا تھا۔ حملے کا نشانہ بننے والا علاقہ کنگڑ کہلاتا ہے۔
کنگڑ گاؤں کے آغاز ہی میں چیٹر کے درخت شروع ہو جاتے ہیں۔ محکمہ جنگلات کے ذرائع کے مطابق ان درختوں میں سے اکثریت کی عمر تیس سے چالیس سال کے درمیاں ہو گی جبکہ اکا دکا درخت پچاس سال سے زائد کے تھے۔ جس کا واضح مطلب ہے کہ اس علاقے میں شجر کاری اسّی اور نوے کی دہائی میں کی گئی تھی۔