عائشہ فاروقی: ’کرئیر کے لیے خواتین کا جگہ تبدیل کرنا قابل قبول نہیں ہوتا‘

،تصویر کا ذریعہAisha Farooqi
حال ہی میں لاہور میں منعقد کیے گئے ادبی میلے میں امریکی ریاست ٹیکسس کے شہر ہیوسٹن میں پاکستان کی سفارت کار رہنے والی عائشہ فاروقی کی کتاب ’موسنگز آف اے نومیڈ‘ کی رونمائی کی گئی ہے۔ ہماری ساتھی فیفی ہارون نے ان سے ایک خاتون سفارت کار کو پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں بات چیت کی ہے۔
عائشہ کا کہنا ہے کہ زندہ قوم کی ایک بنیادی ضرورت ہے کہ اسے بغیر خوف و خطر کے اپنے خیالات کے اظہار کا موقع ملے، اس سے تخلیقی صلاحیتیں پیدا ہوتیں ہیں، نئے آئیڈیاز آتے ہیں اور ایک سول معاشرے کو اس سے بہت طاقت ملتی ہے۔
ایک کونسل جنرل ہونے کے ناطے کتابیں لکھنے کے بارے میں عائشہ کہتی ہیں کہ انہیں ہمیشہ سے کتابیں پڑھنے کا شوق تھا اور خواہش تھی کہ کبھی لکھا بھی جائے۔
’کئی برسوں سے میں چھوٹے چھوٹے مضامین لکھ رہی تھی پھر خیال آیا کہ اسے کتاب کی شکل میں شائع کرنا چاہیے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فیفی ہارون سے بات کرتے ہوئے عائشہ نے بتایا کہ جب ایک خاتون خاندان کی سربراہ ہوتی ہے اور اس کا کرئیر ایسا ہوتا ہے کہ اسے ہر دو تین سال بعد جگہ بدلنا پڑتی ہے تو لوگوں کے لیے یہ قبول کرنا مشکل ہوتا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ یہ ایک خانہ بدوشی جیسی حالت ہوتی ہے۔ آپ کہیں بھی مستقل ٹھکانہ نہیں بنا سکتے۔ اور اس کا اثر آپ کے ہر رشتے اور پورے طرز زندگی پر پڑتا ہے۔
اپنے پروفیشن کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے عائشہ نے کہا کہ ’اس پروفیشن کی خاصیت یہ ہے کہ آپ کی زندگی کا ایک مقصد ہوتا ہے اور وہ یہ کہ اپنے ملک کی خدمت کرنا ہے۔ اگر آپ کا یہی جذبہ ہے تو پھر اس کے لیے آپ کو جو بھی قیمت ادا کرنا پڑے گی اس کے لیے آپ کو تیار رہنا پڑتا ہے۔ ‘
اس پروفیشن میں آنے کی خواہش مند خواتین کے بارے میں عائشہ کہتی ہیں کہ ’اگر کوئی لڑکی اتنی ہمت کرنا چاہتی ہے تو میں اس کی حوصلہ افزائی کروں گی کہ ضرور کیجئیے۔‘

،تصویر کا ذریعہAisha Farooqi
ان کی کتاب کے ایک باب ’ان کویسٹ آف دی پرفیکٹ ریلیشن شپ‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے عائشہ نے کہا کہ دنیا کا ہر انسان پرفیکٹ ریلیشن شپ کی تلاش میں ہے۔ جس کے لیے ذہنی مطابقت یا جذباتی مطابقت جیسی چیزیں بہت ضروری ہیں۔ جس طرح آپ زندگی گزارنا چاہتے ہیں اس میں مشابہت یا ہم آہنگی ہونا چاہیے اگر وہی مختلف ہو تو پھر تو بات ہی شروع نہیں ہو سکتی۔
امریکہ میں ایک مسلمان ملک کی نمائندگی کرنے کے بارے میں عائشہ کہتی ہیں کہ ’امریکہ ایک بہت چیلینجنگ دور سے گزر رہا ہے اور ظاہر ہے ایک سفارت کار کے طور پر ہمارے لیے بھی چیلنج ہوتا ہے۔ اس انتظامیہ میں جو دوسرے کا خوف ہے، پھر چاہے وہ پاکستانی ہوں یا کسی اور نسل کے ہوں، وہ بہت بڑھ گیا ہے۔‘
امریکہ میں 17 سالہ پاکستانی طالبہ سبیکا شیخ کی ہلاکت کے بارے میں بات کرتے ہوئے عائشہ نے کہا کہ ’یہ ایک بہت دردناک واقعہ تھا اور سبیکا کو کمیونٹی میں کوئی نہیں جانتا تھا کیوں کہ وہ 10 مہینے کے لیے آئی تھیں اور ایک چھوٹی سی جگہ پر تھیں لیکن ان کی نمازِجنازہ میں چار ہزار افراد نے شرکت کی۔ اور پھر جب ان کا جسدِ خاکی پاکستان بھیجنے کا وقت آیا تو میری اور میرے ساتھیوں کی یہ کوشش تھی کہ انھیں انتہائی عزت اور تکریم کے ساتھ پاکستان بھیجا جائے۔‘
وہ کہتی ہیں اسی لیے انہوں نے سبیکا کے جسدِ خاکی کو پاکستان کے جھنڈے میں لپیٹ کر بھیجنا ضروری سمجھا۔

،تصویر کا ذریعہAisha Faqoori
ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کے بارے میں عائشہ کہتی ہیں کہ وہ ڈیلس کے پاس ایف ایم سی کارس ویل، میڈیکل سینٹر اور فیڈرل جیل میں پچھلے آٹھ نو سال سے قید ہیں۔ اور چونکہ یہ علاقہ ان کے دائرہ کار میں آتا ہے لہذا یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ ان سے وقتاً فوقتاً ملتی رہیں۔
’یہ میری ذمہ داریوں میں ہے کہ ایک پاکستانی شہری ہونے کے ناطے ان کے جو حقوق ہیں ان کا پورا خیال کیا جائے۔ ان کی خیریت، میڈیکل کنڈیشن اور بھی ان کی جو بھی ضرورت ہے اس کے بارے میں علم رکھوں اور ان کے خاندان تک پہنچاؤں کہ وہ کس حال میں ہیں۔ اس لیے میں کوئی چار پانچ بار ان سے مل چکی ہوں۔‘
عائشہ کہتی ہیں کہ ’ایک خاتون ہونے کہ ناطے شاید میں عورتوں کی طرف داری کرنے والی لگوں لیکن میرا خیال ہے کہ خواتین جب لیڈرشپ پوزیشن میں آتی ہیں تو وہ ہمدردی کا پہلو لے کر آتی ہیں۔ خاص کر ہمارے شعبے میں خواتین میں ہمدردی اور خیال رکھنے والا رویہ زیادہ پایا جاتا ہے۔‘










