پشتون تحفظ موومنٹ: افغان صدر، پاکستانی وزیرِ خارجہ ٹوئٹر پر آمنے سامنے

شاہ محمود قریشی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, دانش حسین
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے پڑوسی ملک افغانستان کے صدر اشرف غنی کی جانب سے پشتون تحفظ موومنٹ کے حوالے سے پاکستان میں جاری کاروائیوں کے پسِ منظر میں کی گئی ٹوئٹس پر سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان کو 'غیر ذمہ دارانہ' اور پاکستان کے معاملات میں 'سنگین مداخلت' قرار دیا ہے۔

جمعرات کی صبح صدر اشرف غنی نے پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے گذشتہ کئی روز سے جاری پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنان کی پکڑ دھکڑ پر اپنے خیالات کا اظہار ٹوئٹس کی صورت میں کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

تاہم اشرف غنی کی جانب سے ٹوئٹر پر اس بارے میں اظہار پاکستان میں سیاسی قوت کے مراکز کو ایک آنکھ نہ بھایا اور پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے جوابی ٹوئٹ میں ان کے بیانات کو 'یکسر مسترد' کر دیا۔

انھوں نے اشرف غنی کو اپنے کام سے کام رکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ 'افغان قیادت کو افغانستان کی عوام کے دیرینہ اور سنگین شکایات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔'

شاہ محمود قریشی

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@SMQureshiPTI

اس سلسے میں افغان صدر نے ایک نہیں دو ٹوئٹس کیں۔

پہلی ٹوئٹ میں انھوں نے کہا 'افغان حکومت کو بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں پر امن مظاہرین اور سماجی کارکنان پر ہونے والے تشدد پر سخت خدشات ہیں۔'

افغان صدر

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@ashrafghani

اسی حوالے سے اپنی دوسری ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا 'ہمارا ماننا ہے کہ ہر حکومت کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ ان سماجی سرگرمیاں کی سپورٹ کرے جو کہ اس دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ہوتی ہیں جس سے ہمارے خطے اور اجتماعی تحفظ کو خطرہ ہے۔ دوسری صورت میں اس کے دیرپا منفی نتائج نکلیں گے۔ '

افغان صدر

،تصویر کا ذریعہTWITTER/ashrafghani

گذشتہ دنوں بلوچستان کے علاقے لورا لائی میں پشتون تحفظ موومنٹ کے لیڈر 35 سالہ ارمان لونی مبینہ پولیس تشدد سے ہلاک ہو گئے تھے۔ ان کی ہلاکت کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ افغانستان کے چند علاقوں میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔

پاکستان میں ہونے والے ان مظاہروں میں شریک پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنان کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار بھی کیا ہے جن کی رہائی کے لیے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر کافی تحریک چل رہی ہے۔

تاہم ان ٹوئٹس اور جوابی ٹوئٹ کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اس بارے میں ایک نئی بحث چل نکلی ہے۔