موسیقی کے ایک ساز کے معاشرے میں کردار اور تاریخ کو پہلی مرتبہ تحقیق کا موضوع بنایا گیا

پاکستان کے سرکاری تعلیمی اداروں میں عام طورپر موسیقی کو بطور مضمون پڑھانے کا ہمیشہ سے فقدان رہا ہے اور بالخصوص قدامت پسند سمجھے جانے والے صوبے خیبر پختونخوا میں موسیقی کے کسی ساز پر تحقیق کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ لیکن اب پہلی مرتبہ خیبر پختونخوا کے ایک تعلیمی ادارے میں پاکستان اور افغانستان میں پشتو لوک موسیقی کا شہنشاہ سمجھے جانے والے آلہ موسیقی رباب پر تحقیق کی گئی ہے۔ یہ اعزاز پشاور کے ایک نوجوان طالب علم سعد حیدر کو حاصل ہوا ہے جو خود رباب بجانے کے ماہر بھی ہیں۔

ہمارے ساتھی رفعت اللہ اورکزئی نے سعد حیدر سے گفتگو کی ہے