عاصمہ شیرازی کا کالم: سیاست کی سانپ سیڑھی کا دلچسپ کھیل

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عاصمہ شیرازی
- عہدہ, صحافی
پیر کی صبح سپریم کورٹ سے آنے والے فیصلے نے ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ کئی دنوں سے ہونے والے تجزیے غلط ثابت ہو گئے۔ کہاں جے آئی ٹی کی تشکیل اور تحقیقات کے دوران یہ خبریں زینت بنتی رہیں کہ آصف علی زرداری جلد جیل میں ہوں گے اور یہ کہ بلاول پر بھی نا اہلیت کی تلوار لٹک رہی ہے۔۔۔
اور کہاں جے آئی ٹی کی ساکھ کو ہی یہ کہہ کر چیلنج کر دیا گیا کہ نیب دو ماہ میں جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں از سر نو تفتیش کرے، اور یہ بھی کہ بلاول معصوم ہے۔
ذرا ایک لمحے کو موجودہ سیاست اور ماحول کا جائزہ لیجیے۔ ایک ایسا وقت جس میں بظاہر احتساب محض سیاسی انتقام بنایا جا چکا ہو اور اصل بدعنوان بھی اسی انتقام کے پیچھے چھپ چکے ہوں۔۔۔ جب حزب اختلاف کے سیاسی رہنماؤں کا خلا عوامی سطح پرمحسوس کیا جا رہا ہو، جب پنجاب کی اہم سیاسی قیادت جیل میں بند ہو اور برسر اقتدار حکومت کی موجودگی میں بھی دباؤ غیر منتخب مقتدروں پر آجائے تو ایسے میں دھند ہی دھند چھائی دکھائی دیتی ہے۔
عاصمہ شیرازی کے دیگر کالم!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
معاشی میدان میں بیرونی امداد جس قدر مل جائے مگر اندرونی محاذ پر معاشی پالیسی کا فقدان اور دن بہ دن ہوتی حماقتیں کسی حد تک متبادل سیاسی قوت کے ساتھ کسی ان دیکھے این آر او کی راہ ہموار کر سکتی ہیں، اور یہی پیپلز پارٹی کی سیاست کے ساتھ ہوا ہے۔
نواز شریف کے دوسری بار جیل جانے کے بعد بڑھتے سیاسی درجۂ حرارت نے پی پی پی کے لیے وقتی ہی سہی لیکن نرم گوشہ پیدا کر دیا ہے۔ گذشتہ کچھ عرصے سے بلاول کا تلخ لہجہ اور سندھ کی تقریباً ساری قیادت کے خلاف کارروائی نے عوامی دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
آصف زرداری اور اومنی گروپ کا تعلق جوڑنے والی جے آئی ٹی کے پس منظر میں کابینہ کی سندھی قیادت کے خلاف فیصلوں اور سندھ حکومت گرانے کے بیانات نے سپریم کورٹ کے مقدمے کو سیاسی بنا دیا ہے۔ انصافی حکومت کی سیاسی کج فہمی اور نا سمجھ رہنماؤں نے ایک اچھے خاصے کیس کی ساکھ کو برباد کر کے رکھ دیا ایسے میں سپریم کورٹ کیا کرتی؟
وزیراعلی سندھ اور بلاول بھٹو اپنا مقدمہ لڑنے میں کامیاب ہوئے اور آصف علی زرداری کو اس حد تک ریلیف مل گیا کہ سپریم کورٹ نے نیب کے ریفرنس دائر کرنے کے لیے دو ماہ ضرور دیے لیکن کوئی مانیٹرنگ جج مقررنہیں کیا اور نہ سپریم کورٹ کے اب تک کے حکم کے بعد شاید بلاول کے خلاف ریفرنس بن سکے۔
مقتدروں کو اس بات کا اندازہ ہو چلا ہے کہ سانپ سیڑھی کے اس کھیل میں سیاسی گوٹی دلچسپ کھیل کھیل سکتی ہے۔ فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ دو تہائی اکثریت کے لیے دونوں اپوزیشن جماعتوں کی مدد کی ضرورت ہے، جبکہ ایسے میں پیپلز پارٹی نوڈیرو اجلاس میں ملٹری کورٹس کے معاملے پر اب ایک قدم بھی آگے نہ جانے کا فیصلہ کر چکی ہے۔
معیشت کے ساتھ ساتھ پارلیمانی محاذ پر بھی انصافی حکومت کو کامیابی نہیں مل رہی۔ بدعنوانی سے مقابلہ آسان ہے تاہم نااہلیت سے مقابلہ کیسے ہو۔۔ یہ ایک اہم سوال ہے؟
پشتون تحفظ موومنٹ پر عسکری حلقوں کا نرم موقف اس بات کا غماز ہے کہ آنے والے دنوں میں زیر عتاب سیاسی قیادت کو بھی ریلیف مل سکتا ہے۔ شاید انصافی حکومت کا ہنی مون پیریڈ اوور ہونے والا ہے؟












