پاکستان: جعلی اکاؤنٹس کیس، 172 نام ای سی ایل میں ڈالنے پر نظر ثانی

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

وفاقی حکومت نے جعلی بینک اکاؤنٹس کے مقدمے میں 172 افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کے معاملے پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں بدھ کے روز ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کیے گئے حکم نامے پر غور کیا گیا۔

داخلہ امور کے وزیر مملکت شہر یار حان آفریدی اور دیگر قانونی ماہر ین نے اس بارے میں وزیر اعظم کو بریفنگ دی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایک ہی وقت میں ان تمام افراد کے نام ای سی ایل سے نہیں نکالے جائیں گے بلکہ اس ضمن میں وفاقی کابینہ کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو اس فہرست میں شامل افراد کے خلاف مقدمات کا جائزہ لینے کے بعد ان کا نام فہرست میں رکھنے یا نکالنے کا فیصلہ کرے گی۔

مزید پڑھیے

جعلی بیک اکاونٹس کے ذریعے مبینہ طور پر اربوں روپے بیرون ملک بھیجنے کے معاملے پرسپریم کورٹ کے حکم پر بنائی گئی جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں اس مقدمے میں ملوث تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی سفارش کی تھی۔

ان میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے علاوہ سابق صدر آصف علی زرداری، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر افراد کے نام شامل تھے۔ موجودہ حکومت نے محض جے آئی ٹی کی رپورٹ پر ان افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کردیے جبکہ اس ضمن میں ایک طریقہ کار موجود ہے کہ اگر کسی بھی ادارے کی طرف سے جن میں نیب یا عدالتوں کی طرف سے نام بھیجے گئے ہوں تو انہی ناموں کو ای سی ایل میں شامل کیا جاتا ہے۔

اس مقدمے میں جے آئی ٹی کو محض حقائق تک پہنچے کا مینڈیٹ دیا گیا تھا لیکن اس ٹیم کے سربراہ کی طرف سے حکومت کو خط لکھا گیا کہ اس مقدمے میں ملوث تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کیے جائیں۔

سپریم کورٹ نے اس اقدم پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل نے وزیر اعلیٰ سندھ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے بارے میں کہا تو سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں درخواست دیں پھر عدالت اُن کا نام ای سی ایل سے نکلوا دے گی۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ وزارت داخلہ میں قائم کی گئی کمیٹی کو بھجوا دیا گیا ہے جو اس فہرست میں شامل ہر شخص کے خلاف موجود شواہد کو دیکھتے ہوئے اس کا نام ای سی ایل سے نکالنے یا برقرار رکھنے کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق اس فہرست کا ازسر نوجائزہ لینے کے لیے اس کمیٹی کو ایک سے دو ہفتے لگ سکتے ہیں۔

فواد چوہدری نے سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف ملکی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام تھا لیکن اس وقت کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اُنھیں اپنے طیارے پر بیرون ملک فرار کروایا اور سابق وزیر اعظم کے خلاف اس اقدام پر کوئی کارروائی بھی نہیں ہوئی۔

وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق وفاقی کابینہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی تین نئی آسامیاں پیدا کرنے کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد اس عدالت عالیہ میں ججز کی تعداد چیف جسٹس سمیت دس ہو جائے گی۔