کیا جنرل مشرف ’قانون کے لاڈلے بچے‘ یا ’عدالت کے چہیتے‘ ہیں

،تصویر کا ذریعہRobert Nickelsberg
سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف بغاوت کے مقدمے میں ان کا بیان قلمبند کرنے کے لیے خصوصی عدالت کی جانب سے کمیشن کی تشکیل کے فیصلے پر پاکستان میں اردو ذرائع ابلاغ نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
پیر کو عدالت نے کہا تھا کہ چونکہ جنرل مشرف نے ویڈیو لِنک پر بیان دینے سے انکار کر دیا ہے لہذا اس مقصد کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا جائے۔
جنرل مشرف گذشتہ تقریباً ڈھائی برس سے دبئی میں رہ رہے ہیں۔ ان پر تین نومبر دو ہزار سات کو ہنگامی حالت نافذ کرنے کے جرم میں بغاوت کا مقدمہ چل رہا ہے۔ سنہ دو ہزار چودہ میں ان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔
کئی تجزیہ کاروں نے بغاوت کے اس مقدمے میں عدالت پر تنقید کرتے ہوئے اسے وقت کا ضیاع قرار دیا ہے۔ ان کے بقول 'وہ قانون کے لاڈلے بچے' اور 'عدالت کے چہیتے' ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
جیو نیوز کے اینکر سلیم صافی نے اپنے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مشرف کے مقدمے پر بات کرنا 'وقت ضائع کرنا ہے' کیونکہ ان پر کبھی مقدمہ چلے گا ہی نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی پروگرام میں ماہرِ قانون بابر ستار کا کہنا تھا کہ اگر ملزم عدالت میں پیشی سے معذور ہو تو وہ ویڈیو لِنک پر اپنا بیان ریکارڈ کرنے کی استدعا کر سکتا ہے۔
تاہم ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ اپنا بیان ریکارڈ نہیں کروانا چاہتے۔

،تصویر کا ذریعہAAMIR QURESHI
قانون کا لاڈلہ
بابر ستار نے انھیں 'قانون کا لاڈلہ بچہ' قرار دیتے ہوئے کہا کہ 'ہمیں اس مقدمے پر گفتگو میں اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔'
ایک اور تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ 'اگر مشرف کوئی پروفیسر یا سیاستدان ہوتے تو انھیں ہتھکڑیوں میں عدالت میں گھسیٹ کر لایا جاتا۔'
نئی نظیر
جیو کے ایک اور اینکر شاہزیب خانزادہ نے اپنے شو میں کہا کہ مشرف پاکستان آ کر مقدمے کا سامنا کرنے کو تیار نہیں ہیں اور نہ ہی ویڈیو لِنک پر بیان ریکارڈ کروانے کو تیار ہیں۔
معروف ماہرِ قانون رشید اے رضوی نے مشرف کا بیان لینے کے لیے کمیشن کی تشکیل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ نئی نظیر ہوگی۔'

،تصویر کا ذریعہSAEED KHAN
ان کا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ حد سے زیادہ طول پکڑ گیا ہے کیونکہ مشرف کے ساتھ 'عدالت چہیتے بچے کا سلوک کر رہی ہے۔'
ان کے بقول نہ تو سابق حکومت نے اس مقدمے کی صحیح پیروی کی اور نہ ہی موجودہ حکومت کر رہی ہے۔
جنرل مشرف اپنی سلامتی اور صحت کے بارے میں تشویش کو جواز بنا کر عدالت میں پیشی سے معذرت کرتے رہے ہیں۔
مفرور جنرل
مئی دو ہزار سولہ میں عدالت نے جنرل مشرف کو مفرور قرار دے کر وفاقی تحقیقاتی ادارے، ایف آئی اے، کو انھیں بارہ جولائی دو ہزار سولہ کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔
جنرل مشرف نے کہا تھا کہ وہ فوج کی حفاظت اور اس یقین دہانی کے ساتھ عدالت میں پیش ہونے کو تیار ہیں کہ انھیں دبئی واپس جانے دیا جائے گا۔
اگر جنرل مشرف پر بغاوت کا الزام ثابت ہوجائے تو انھیں پھانسی یا عمر قید ہو سکتی ہے۔










