آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جبران ناصر کا کراچی سے انتخاب لڑنے کا اعلان، ’کسی سیاسی جماعت سے ٹکٹ کا انتظار نہیں‘
پاکستان کے نمایاں سماجی کارکن جبران ناصر نے آئندہ انتخابات میں کراچی سے انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے۔
جبران ناصر نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ انتخابات میں کراچی کے قومی اسمبلی کے حلقے 247 (سابقہ این اے 250) اور صوبائی اسمبلی کے حلقے پی ایس 111 (سابقہ پی ایس 113) سے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کرائیں گے۔
انھوں نے کہا وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیں گے اور انھیں کسی سیاسی جماعت سے ٹکٹ کا انتظار نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ وہ کسی سیاسی جماعت کو جوائن نہیں کر رہے بلکہ ان کے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ آگے چل کر ایک ایسی سیاسی تحریک کی داغ بیل ڈالنا ہے جہاں سے ایسے نوجوان سیاسی میدان میں آ سکیں جن کا نہ تو مجرمانہ ریکارڈ ہو اور نہ ہی انھوں نے سرکاری بینکوں سے قرضے لے معاف کروائے ہوں۔
مزید پڑھیئے
انھوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا چاہتے ہیں جہاں سے لوگوں کے حقیقی مسائل حل کیے جا سکیں اور نوجوان اپنے آپ کو متبادل قیادت کے طور پر سامنے لا سکیں۔
جبران ناصر نے دو ہزار تیرہ میں بھی کراچی سے بطور آزاد امیدوار انتخابات میں حصہ لیا تھا اور انھیں صرف چند سو ووٹ ملے تھے۔ ایک بار پھر انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ گذشتہ پانچ برسوں میں حالات میں بہت تبدیلی آئی ہے اور وہ اس دوران گھر میں نہیں بیٹھے بلکہ مختلف ایشوز پر اپنی آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اب وہ لوگوں کو بتا سکتے ہیں کہ انھوں نے پچھلے پانچ برسوں میں لوگوں کے حقوق کے لیے کیا کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ناصر جبران گذشتہ کئی برسوں سے ایک متحرک ایکٹوسٹ کے طور پر سامنے آئے ہیں اور انھوں نے لال مسجد کے انتہا پسندوں، لاپتہ افراد کی بازیابی اور مشال خان کو انصاف دلانے جیسی مہم چلائی ہیں جس پر انھیں قتل کی دھمکیاں بھی ملتی رہی ہیں۔ ناصر جبران اب پاکستان میں ایک جانا پہچانا نام ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ان مقصد ایک ایسی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھنا ہے جہاں ایسے لوگ عوام کی نمائندگی کے لیے آگے بڑھیں جن کا نہ تو مجرمانہ ریکارذ ہے، اور نہ وہ بینک ڈیفالٹر ہیں۔
انھوں نے کہا کہ وہ ایسا سیاسی پلیٹ فارم بنانے کے لیے کوشاں ہیں جہاں سے نوجوان کو متبادل قیادت مہیا کر سکیں۔