آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کوئٹہ: کوئلے کی کان میں حادثات میں 23 ہلاکتیں، مزدور تنظیم کا احتجاج
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع کوئٹہ کے دو مختلف علاقوں میں کوئلے کی کانوں میں پیش آنے والے حادثات کے ہلاکتوں کی تعداد 23 ہو گئی ہے جبکہ کان کنوں کی مزدور تنظیم نے ناقص حفاظتی انتظامات پر احتجاج کیا ہے۔
یہ حادثات کوئٹہ شہر کے مشرق میں مارواڑ اور اسپن کاریز کے قریب سنجدی کے علاقوں میں پیش آئے تھے۔
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ فرخ عتیق نے بتایا کہ ان میں سے 16 کان کنوں کی ہلاکت مارواڑ جبکہ 7 کی ہلاکت سنجدی کے علاقے میں ہوئی۔
بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں ہونے والے ماضی کے حادثات کے بارے میں پڑھیے
کوئٹہ سے اندازاً 45 کلومیٹر کے فاصلے پر مارواڑ کے علاقے میں تین کانوں میں 24 سے زائد کان کن کام کررہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محکمۂ داخلہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ایک کان میں زور دار دھماکے کے باعث تینوں کانوں میں کام کرنے والے تمام کان کن پھنس گئے۔
حکام نے ابتدائی تحقیق کے حوالے سے بتایا کہ دھماکہ کان میں گیس بھر جانے کی وجہ سے ہوا۔
مارواڑ میں پھنسے ہوئے کان کنوں میں سے 9 افراد زیادہ گہرائی میں نہیں تھے جس کے باعث وہ زخمی ہو گئے تھے۔
ان زخمیوں کو نکالنے کے بعد علاج کے لیے سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا تاہم ابتدا ئی طبی امداد کے بعد ان کو فارغ کردیا گیا۔
سول ہسپتال میں ایک زخمی کان کن نے بتایا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد میں سے زیادہ تر کا تعلق خیبر پختوانخوا کے علاقے شانگلہ اور سوات سے ہے۔
ڈپٹی کمشنر فرخ عتیق نے بتایا کہ مارواڑ اور سنجدی میں ریسکیو کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔
مارواڑ اور سنجدی میں کان کنوں کی ہلاکت اور بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں سیفٹی کے جدید اور مناسب انتظامات نہ ہونے کے خلاف کوئٹہ میں اتوار کو پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
کوئٹہ پریس کلب کے باہر ہونے والے اس مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل لالہ سلطان کا کہنا تھا کہ سیفٹی کے انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے ان کانوں میں حادثات اب معمول بن گئے ہیں۔
انھوں نے کوئلے کی کانوں میں حادثات کی ایک بڑی وجہ ٹھیکیداری نظام کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹھیکیدار اپنے آپ کو سیفٹی یا مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے ذمہ دار نہیں سمجھتے۔
ان کا دعویٰ ہے کہ 2010 سے لیکر اب تک بلوچستان میں کوئلہ کانوں میں پیش آنے والے واقعات میں 200 سے زائد کان کن ہلاک ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ محکمۂ معدنیات بھی سیفٹی اور مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کو اس کا ازخود نوٹس لینا چائیے تاکہ حادثات کے ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جاسکے۔
گذشتہ ماہ بھی سوراب اور دکی کے علاقوں میں کوئلہ کانوں میں پیش آنے والے حادثات کے باعث 8 سے زائد کان کن ہلاک ہوئے تھے۔
بلوچستان میں دیگر صنعتیں نہ ہونے کے برابر ہیں جس کے باعث کوئلے کی کان کنی یہاں کی سب سے بڑی صنعت ہے۔
کوئلے کی کانیں بلوچستان میں زیادہ تر کوئٹہ، ہرنائی ،دکی اور کچھی کے اضلاع میں ہیں۔
ان کانوں میں 60 ہزار افراد کام کرتے ہیں لیکن حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے باعث ان میں حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔