آئین مجرم کے انسانی وقار کا بھی محافظ ہے

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے قصور میں سات سالہ زینب کے قاتل کی گرفتاری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کا بس چلتا تو وہ زینب کیس کے ملزم کو سرِعام پھانسی دیتے۔

وزیر اعلی کے بیان کے بعد ملک میں سرعام پھانسی کی سزا پر ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ مسلم لیگ نون کے دور حکومت میں سرعام پھانسی کی بات کی گئی ہے، ماضی میں بھی مسلم لیگ کی حکومت کے دوران ایک ایسا قانون بنایا گیا تھا جس کے تحت کسی مجرم کو سرعام پھانسی کی سزا دی جا سکتی تھی۔

سات سالہ زینب کے قتل کے بعد ایک بار پھر سرعام پھانسی کا مطالبہ سامنے آیا ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر رحمان ملک نے سینٹ میں ایک ایسی قرارداد پیش کی ہے جسے اگر مان لیا گیا تو پاکستان میں سرعام پھانسی دینے کی اجازت ہو گی۔

نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں فوری انصاف کی فراہمی کےلیے خصوصی عدالتیں بنائی گئیں جسے سپیڈی ٹرائل کورٹ ایکٹ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ان عدالتوں کے قیام کے بعد ان خصوصی عدالتوں نے سزائے موت کی متعدد سزائیں سنائیں۔ اکتوبر 1991 میں وزیراعظمِ وقت نواز شریف نے اعلان کیا کہ پرتشدد جرائم کی روک تھام کے لیے یہ سزائیں سرِعام دی جائیں گی۔

مگر 1992 کے اوائل میں چیف جسٹس محمد افضل ظلہ نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے سرعام پھانسی دینے کے فیصلے کو ایک عبوری حکم نامے کے ذریعے روک دیا تھا۔

1994 میں سپریم کورٹ کے ایک پانچ رکنی فل بینچ نے سرعام پھانسی دینے کو آئین پاکستان اور حقوق انسانی کے عالمی اعلانیہ کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس پر ہمیشہ کے لیے پابندی عائد کر دی۔

سپریم کورٹ نےسرعام پھانسی کے معاملے میں اس بات پر غور کیا کہ کسی مجرم کو سرعام پھانسی دینا انسانی وقار کی خلاف ورزی تو نہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ سرِعام پھانسی دینا آئین پاکستان میں بیان کیے گئے انسانی حقوق (آرٹیکل چودہ) کی خلاف ورزی ہے اور آئین پاکستان ہر شہری کے انسانی وقار کے حق کو مانتا ہے چاہے وہ کتنا بڑا مجرم ہی کیوں نہ ہو۔

بے نظیر بھٹو کی حکومت نے 1994 میں بطور پالیسی اعلان کر دیا کہ کوئی بھی پھانسی سرِعام نہیں دی جائے گی۔ اس اعلان میں خصوصی طور پر قصاص اور دیت کے معاملات میں دی جانے والی سزاؤں کا ذکر تو نہیں تھا مگر حکومتی پریس نوٹ میں یہ کہا گیا تھا کہ سرِعام پھانسی چاہے وہ بدترین مجرموں کو ہی دی جا رہی ہو، انسانی وقار کے خلاف ہے اور انسان کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے اسی لیے اس پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔