’اس جملے کی معذرت تو شاید ہو سکے مگر ذہنیت کا کیا کریں‘

    • مصنف, طاہر عمران
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

سوشلستان سمجھتا ہے کہ فوج اور نواز حکومت میں ٹاکرا ہونے کو ہے۔ سوشلستان کے جہادی سمجھتے ہیں کہ توہین کا الزام لگانے کے لیے ری ٹویٹ کرنا کافی ہے اور جو لوگ مردان میں مرنے والے مشال کی تدفین کے دوسرے دن حالات کو بھانپ کر تردید کرنے آئے تھے اب یہ توہین کا الزام ان کے دروازے پر دستک دینے پہنچ چکا ہے۔

مگر اس ہفتے کے سوشلستان میں ہم بات شروع کریں گے کامیڈینز اور بچوں کے جنسی استحصال جیسے حساس معاملے سے۔

'بچوں کا جنسی استحصال مذاق نہیں'

گذشتہ دنوں ایک نجی چینل کے ایوارڈز کی تقریب میں میزبان نے اداکار احسن خان کو دیکھ کر مذاقًا ایسی بات کہی جس پر سوشل میڈیا نے کامیڈین کو آڑے ہاتھوں لیا۔

اہم بات یہ ہے کہ اس ملک کے نامی گرامی اداکار، فنکار، ڈرامہ نگار، موسیقار سب اس تقریب میں موجود تھے جن کی طرف سے اس جملے کے بعد ایک قہقہہ بلند ہوا۔

مگر اس مذاق پر کم از کم 'کی بورڈ' جنبش میں آئے اور لوگوں نے اس پر خوب تنقید کی جس پر مذاق کرنے والے نے معذرت بھی کی کہ یہ سب سکرپٹ کا حصہ نہیں تھا۔

یہ بات سن کر بہت سے ایسے ہیں جو سوچتے ہیں کہ 'معاملہ اب زیادہ تشویش ناک ہے کیونکہ معذرت اس جملے کی تو شاید ہو سکے مگر اس ذہنیت کا کیا بنے گا۔؟'

معروف گلوکارہ حدیقہ کیانی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ 'یہی ہمارے معاشرے میں خرابی ہے۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہے اتنے نیچ درجے پر اترنا اور اتنے فضول انداز میں بات کرنا۔ میں سارا الزام میزبان کے سر نہیں تھونپ رہی۔ بلکہ ہر ایک پر جو اس کمرے میں موجود تھا اور جو اس پر ہنستے رہے۔ آپ سب جوابدە ہیں۔ ایسے کلچر کے سامنے خاموش رہنا بہت بری بات ہے مگر اس پر ہنسنا بہت گھٹیا بات ہے۔'

لائیو سٹریمنگ اور ویڈیو کا مستقبل

فیس بُک اور پیری سکوپ جیسی ایپلیکشنز کے سبب دنیا بھر میں لائیو سٹریمنگ کا رجحان بہت عام ہورہا ہے اور ویب سائٹ مارکیٹ اینڈ مارکیٹ کے مطابق اگلے چار سالوں تک دنیا کی ویڈیو سٹریمنگ مارکیٹ کی کُل مالیت 70 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

سوشل میڈیا پر ویڈیو کے رجحان میں اضافے کے سبب ادارے اب ویڈیو کے استعمال کو ترجیح دے رہے ہیں اور مقامی طور پر پاکستان میں اگر دیکھا جائے آن ڈیمانڈ ویڈیو کی مانگ میں بہت اضافہ ہوا ہے۔

حال ہی میں مقبول ہونے والے ویڈیو اشتہارات اس بات کا ثبوت ہیں کو ٹی وی کی نسبت سوشل میڈیا پر ایسے اشتہارات کی مقبولیت بہت زیادە ہوتی ہے اور اس کی پیمائش کی جا سکتی ہے ۔

اس ہفتے کی تصاویر

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں وزیراعلیٰ اور کور کمانڈر کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی تقریب۔

پاکستان میں افغان سفیر ڈاکٹر عمر ذاخلوال کی ایک ٹویٹ جس میں انھوں نے حکمت یار کی کابل میں تصویر کے بارے میں کہا کہ اس عمل کا آغاز ایک برس قبل اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر ایک مختصر گفتگو سے ہوا تھا۔