آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’توہین مذہب‘: حب میں ہندو برادری کی دکانیں بند جبکہ شہر میں سکیورٹی سخت
بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں ایک ہندو شخص پر توہینِ مذہب کے الزام کے بعد شہر میں مظاہروں کے بعد کشیدگی کے باعث جمعے کو ہندو برادری نے اپنی دکانیں اور کاروبار بند رکھے اور حکام نے علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی ہے۔
اس سے پہلے مقامی پولیس نے بتایا تھا کہ جمعرات کو ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے توہینِ مذہب کے ایک ملزم کے خلاف نکالے جانے والے جلوس نے تھانے پر حملہ کر کے اسے نذرِ آتش کرنے کی کوشش کی اور اس دوران مسلح مظاہرین کی جانب سے فائرنگ سے ایک بچہ ہلاک ہو گیا تھا۔
ڈپٹی کمشنر مجیب الرحمن نے نامہ نگار ریاض سہیل کو بتایا کہ حب میں اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر غیر معمولی سکیورٹی فراہم کر دی گئی ہے جبکہ علاقے میں پولیس لیویز فوسرز گشت کر رہی ہیں۔
ڈپٹی کمشنر کا مزید کہنا تھا صورتحال معمول پر ہے اور گذشتہ رات مذہبی جماعتوں اور انتظامیہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کامیاب ہوئے تھے۔ ان مذاکرات کے بعد یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ کوئی بھی قانون ہاتھ میں نہیں لے گا۔
پولیس نے ضمانت دی کہ گرفتار ملزم کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
ڈپٹی کمشنر مجیب الرحمٰن کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز کی ہنگامہ آرائی کے الزام میں 20 کے قریب مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ اس سلسلے میں مزید گرفتاریاں کی جائیں گی۔ انھوں نے کہا کہ اس ہنگامہ آرائی کی ایف ائی آر بھی درج کی جائے گی۔
ڈپٹی کمشنر نے دعوی کیا کہ تمام کاروباری مراکز بشمول ہندو برادری کے کھلا ہے۔ تاہم مقامی صحافیوں نے بتایا ہے کہ ہندو برادری نے آج کاروبار بند رکھا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ ضلع لسبیلہ میں ہندو برادری ایک بڑی تعداد میں آباد ہے اور ہندوؤں کا مقدس مقام ہنگلاج بھی یہاں ہی واقع ہے جہاں ہر سال منعقد ہونے والے میلے میں شرکت کے لیے ہزاروں عقیدت مند آتے ہیں۔