آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان اور انڈیا میں لفظوں کی جنگ عروج پر
- مصنف, رفاقت علی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
پاکستان کی فوجی عدالت سے مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کو سزا موت سنائے جانے اور پھر انڈیا کی وزیرخارجہ کی جانب سے ’کسی بھی حد تک بھی جانے‘ کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستان اور انڈیا کے مابین عملاً جنگ چھڑ چکی ہے۔
کلبھوشن جادھو کے حامیوں نے ’کلبھوشن کو بچاؤ‘ (سیو کلبھوشن) کے عنوان سے فیس بُک پر ایک دو نہیں، بلکہ کئی صفحات بنائے ہیں اور بڑے پیمانے پر ان کی تشہیر کی جا رہی ہے۔
انڈیا کے جانب سے بعض لوگ اپنے حکومت کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ بلوچستان کو آزاد ریاست تسلیم کر لے۔
بھام باس لکھتے ہیں کہ انڈیا کو اپنی فوج کو اجازت دے دینی چاہیے کہ وہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کو واپس لے لے۔ بھام باس یہ بھی چاہتے ہیں کہ انڈیا بلوچستان کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کر لے۔
سوشل میڈیا پر پاکستانی نوجوان بھی بھارتی دھمکیوں کا ترکی بہ ترکی جواب دے رہے ہیں۔ امان اللہ لکھتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دہلی میں پنڈت سمجھ جائیں کہ (کلبھوشن کو سزا) دراصل دہشت گردی کو پاکستان برآمد کرنے کی قیمت ہے۔
پاکستانی محمد منصور اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ کلبھوشن جادھو کو موت کی سزا ایک جوہری جنگ کی وجہ بن سکتی ہے۔ ان کے بقول ’جب ساری دنیا کی توجہ شام پر مرکوز ہے برصغیر ہند ایک تباہ کُن جوہری جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔‘
کپل سبل اپنے ٹوئٹر پیغام میں اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ کلبھوشن جادھو کا معاملہ پاکستان اور انڈیا کے تعلقات مزید خراب کر سکتا ہے۔
وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان کی فوجی عدالت کی جانب سے کلبھوشن جادھو کو سزا سنانے کے فیصلے نے پاکستان اور انڈیا کے مابین سفارتی جنگ میں ایک نیا محاذ کھول دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بعض بھارتی سوشل میڈیا صارفین شکایت کرتے ہیں کہ پاکستان کلبھوشن جادھو کے معاملے میں سفارتی آداب کا لحاظ نہیں کر رہا ہے۔
ادتیا راج کول اپنے ایک پیغام میں لکھتے ہیں کہ پاکستان نے کلبھوشن جادھو کو قونصلر تک رسائی نہیں دی ہے حالانکہ انڈیا نے پاکستان کو اجمل قصاب تک رسائی مہیا کی تھی۔ اس پر ایک دوسری صارف ادتیا راج کول کی تصحیح کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ انھیں جاسوس اور دہشت گرد میں فرق کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔
پاکستانی نوجوان بھی سوشل میڈیا پر انڈین شہریوں کے سوالات کا جواب دیتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ادتیا کول کو جواب دیتے ہوئےایک پاکستانی نوجوان انس ملک کہتے ہیں کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت جاسوس کو قونصلر تک رسائی کی اجازت نہیں ہے۔
سوشل میڈ یا پر متحرک پاکستانی صارفین انڈین شہریوں سے بعض سوالات کے جواب مانگ رہے ہیں۔ احمد حسن ظفر نے سوال اٹھایا کہ ’کیا پراپیگنڈے کے ماہر انڈین یہ بتا سکتے ہیں کہ اگر کلبھوشن جادھو ایک کاروباری شخصیت تھے تو انھیں جعلی پاسپورٹ کی ضرورت کیوں پڑی؟‘
پاکستان کے ایک مشہور بلاگر عامر مغل جو خود ماضی میں پاکستان کے سویلین انٹیلی جنس ادارے آئی بی کے اہلکار رہ چکے ہیں، اپنے ملک کے ٹی وی اینکرز سے ناراض نظر آتے ہیں۔ عامر مغل ’بیوقوف‘ اینکروں کو مشورہ دیتے ہیں کہ روس اور امریکہ میں سرد جنگ کے دوران جاسوسی کی تاریخ کا مطالعہ کریں ۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا سرد جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے، اس لیے ان کی رائے میں دونوں کو چاہیے کہ آپس میں قیدیوں کا تبادلہ کریں اور اس معاملے کو ختم کریں۔
بھارت کے ایک بلاگر کلبھوشن جادھو کے معاملے پر ہونے والی لفظوں کی جنگ کا مطالعہ کرنےکے بعد اپنی رائے دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’آخری بات یہ ہے کہ پاکستان اور انڈیا دوست نہیں۔ پاکستان بالاخر شام بن جائے۔ وقت کو ڈیڈ لائن متعین کرنے دیں۔ جنگ کا کبھی فائدہ نہیں ہوا۔‘