’افغان سرحد پر سکیورٹی مشترکہ دشمن سے مقابلے کے لیے ہے‘

،تصویر کا ذریعہAP
پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر سکیورٹی مشترکہ دشمن سے لڑنے کے لیے بڑھائی گئی ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے پیر کو جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق آرمی چیف کا کہنا تھا کہ سرحد پر ہر طرح کی غیر قانونی نقل و حرکت روکی جائے گی۔
بیان کے مطابق آرمی چیف کا کہنا تھا کہ تمام شدت پسندوں کے خلاف بلاتفریقِ رنگ و نسل کارروائی ہوگی۔
جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان دہشت گردی کے خلاف لڑ رہے ہیں اور ان مشترکہ کوششوں کو جاری رہنا چاہیے۔
آرمی چیف نے افغان حکام کی جانب سے شدت پسندی کے خاتمے کے لیے دی جانے والی حالیہ تجاویز کا بھی خیر مقدم کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے جمعے کو افغانستان میں امریکی کمانڈر جنرل جان نکلسن سے رابطہ کر کے پاکستان میں ہونے والی شدت پسندی کی حالیہ کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں آرمی چیف نے امریکی کمانڈر جنرل نکلسن کو افغان حکام کو فراہم کی گئی شدت پسندوں سے متعلق فہرست سے بھی آگاہ کیا۔
بیان کے مطابق جنرل باجوہ نے امریکی کمانڈر سے کہا کہ پاکستان میں شدت پسندی کارروائیوں کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوتی ہے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ کے مطابق پاکستان میں ہونے والی شدت پسندی کے حالیہ واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیموں کی قیادت بھی افغانستان میں ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ کرکے ہماری سرحد پار کارروائی نہ کرنے کی پالیسی کا امتحان نہ لیا جائے اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال ہونے کو روکا جائے۔
اس سے پہلے جمعرات کی شام سندھ کے شہر سیہون میں لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر خودکش حملے میں 80 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کے بعد پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد بھی تاحکمِ ثانی بند کر دی تھی۔
پاکستانی فوج نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے کیا گیا ہے۔









