بروغل میں شدید برفباری، چودہ سو گھرانوں سے رابطہ منقطع

،تصویر کا ذریعہEPA
پاک افغان سرحد پر واقع گاؤں بروغل میں شدید برف باری سے 1400 گھرانوں کا رابطہ ایک ہفتے سے ملک کے دیگر شہروں سے منقطع ہے۔
بروغل کا علاقہ چترال سے کوئی ڈھائی سو کلومیٹر دور شمال میں پاک افغان سرحد پر واقع ہے۔
اس علاقے میں حالیہ دنوں میں کوئی آٹھ سے دس فٹ تک برف باری ہوئی ہے جبکہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ برف 80 کلومیٹر کے علاقے تک پھیلی ہوئی ہے جس کی وجہ سے گاڑی تک پہنچنے کے لیے انھیں چار سے پانچ روز تک پیدل سفر کرنا پڑتا ہے اور پھر وہ ضلع چترال پہنچ پاتے ہیں ۔
بروغل کے یونین کونسل کے ناظم امین جان تاجک بھی کئی دن کا سفر کر کے چترال پہنچے جہاں بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ علاقے میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت پائی جاتی ہے۔
امین جان تاجک کے مطابق علاقے میں تین سے چار دیہات ہیں جہاں کوئی ہسپتال نہیں صرف ایک ڈسپنسری ہے جہاں ادویات ختم ہو چکی ہیں جبکہ بارش اور برفباری سے بیماریاں پھیل رہی۔
انھوں نے مزید کہا کہ صورتحال بہت تشویشناک ہے اس لیے راستہ کھولنے یا علاقے میں خوراک اور ادویات پہنچانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محکمہ موسمیات کے پشاور میں تعینات ڈائریکٹر مشتاق علی شاہ نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں کی نسبت اس سال بارشیں اور برف زیادہ پڑی ہے اور اس میں خیبر پختونخوا کے علاقے مالم جبہ اور کالام میں سب سے زیادہ برفباری ہوئی ہے۔ مالم جبہ میں دس فٹ اور کالام میں آٹھ فٹ تک برف پڑی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان علاقوں میں محکمہ موسمیات کی ٹیمیں موجود ہیں لیکن چترال میں لواری ٹاپ اور بروغل سے بھی اطلاعات ہیں کہ وہاں اس مرتبہ شدید برف پڑی ہے لیکن وہاں محمکمہ موسمیات کی ٹیم نہ ہونے کے سبب معلومات ریکارڈ نہیں کی جا سکیں۔
مشتاق علی شاہ کا کہنا تھا کہ آئندہ چند روز مزید بارشوں اور برفباری کا امکان ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ برف باری اور بارشیں معمول سے زیادہ ہوں گی جس سے بعض علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے اور کچھ علاقوں میں راستے بند ہو سکتے ہیں۔










