آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایک ہفتے میں جنرل راحیل شریف کا پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کا دوسرا دورہ
پاکستان کی بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے اتوار کو لائن آف کنٹرول کے اگلے مورچوں کا دورہ کیا اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جنرل راحیل شریف نے کنٹرول لائن کے حاجی پیر سیکٹر پر اگلے مورچوں کا دورہ کیا۔
اس موقع پر لائن آف کنٹرول پر10 کور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ظفر اقبال نے آرمی چیف کا استقبال کیا۔ مقامی کمانڈرز نے جنرل راحیل شریف کو فوج کی آپریشنل تیاریوں پر بریفنگ دی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جوانوں سے اپنے خطاب میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے لائن آف کنٹرول پر نگرانی کے موثر نظام اور فوج کی تیاریوں پر اظہار اطمینان کیا جبکہ اگلے مورچوں پر تعینات جوانوں کے بلند حوصلوں کی تعریف کی۔
واضح رہے کہ ایک ہفتے کے دوران آرمی چیف کا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا یہ دوسرا دورہ ہے۔ اس سے قبل آرمی چیف نے 'سٹرائیک کور' کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا تھا جو منگلا کے مقام پر واقع ہے اور اسے عام طور پر 'کور اول' کہا جاتا ہے۔
خیال رہے کہ 29 ستمبر کو انڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں شدت پسندوں کے لانچ پیڈز پر سرجیکل سٹرائیکس کیں جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی تھی۔
پاکستان نے انڈیا کی جانب سے سرجیکل سٹرائیکس کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کنٹرول لائن پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا واقعہ تھا جس کے نتیجے میں اس کے دو فوجی ہلاک ہوئے۔
انڈیا کی جانب سے سرجیکل سٹرائیکس کا دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا جب 18 ستمبر کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں بریگیڈ ہیڈ کوارٹر پر حملے میں 18 فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دفتر خارجہ کی مذمت
دوسری جانب پاکستان کے دفتر خارجہ نے انڈین فوج کے ہاتھوں 12 سالہ کشمیری بچے کی ہلاک پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 12 سالہ لڑکے کی ہلاکت انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انڈین فوج کی بربریت اور ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حکومت پاکستان اور عوام انڈین فوج کے ہاتھوں 12 سالہ کشمیری لڑکے جنید احمد کی ہلاکت پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور دکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جنید احمد کو بے دردی سے قتل کیا جانا کشمیر میں ہندوستانی حکومت کی ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال اور انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں لوگ بنیادی حقوق کا مطالبہ کررہے ہیں خاص طور پر حق خود ارادیت کا جو انھیں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے دیا تھا۔
دفتر خارجہ کے مطابق تین ماہ سے زائد عرصے سے کشمیر میں جاری کشیدگی کے نتیجے میں انڈین فوجیوں کے ہاتھوں 115 سے زائد بے گناہ اور بے بس کشمیریوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے جبکہ 15 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے علاوہ سینکڑوں افراد پیلٹ گنز کے چھرے لگنے سے بینائی سے محروم ہوچکے ہیں جن میں خواتین و بچے بھی شامل ہیں۔