پیرس ہلٹن دوبارہ عدالت میں طلب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاس اینجلس کے ایک جج نے پیرس ہلٹن کو جمعہ کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ آیا انہیں واپس جیل بھیجا جائے یا نہیں۔ ہلٹن ہوٹلوں کی چین کی وارث پیرس ہلٹن کو نشے کی حالت میں ڈرائیونگ پر دی گئی پروبیشن کی خلاف ورزی کرنے پر 45 دنوں کی قید کی سزاسنائی گئی تھی اور صرف تین دن بعد ہی جمعرات کو انہیں جیل سے جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ انہیں ایک الیکٹرانک ٹیگ لگا کر صحت کی بنیاد پر گھر جانے کی اجازت دی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ وہ باقی سزا گھر پر ہی پوری کریں۔ ان کی اس رہائی پر ملک میں خاصی نکتہ چینی کی گئی کہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔اب انہیں واپس عدالت میں طلب کیا گیا ہے جہاں یہ طے کیا جائے گا کہ انہیں واپس جیل بھیجا جائے یا نہیں۔ لاس اینجلیس کی عدالت میں دائر کیے گئے چالان کے متعلق جب 15 جنوری کو کیلیفورنیا ہائی وے پیٹرول نے انہیں بغیر بتی کےگاڑی چلاتے پکڑا تھا تو اس وقت بھی ان کا لائسنس معطل تھا۔ اس وقت 26 سالہ پیرس ہلٹن نے ایک کاغذ پر دستخط کیے تھے کہ انہیں گاڑی چلانےکی اجازت نہیں ہے۔
27 فروری کو جب وہ بتیوں کے بغیر گاڑی چلاتے دوبارہ پکڑی گئیں تو ان پر پروبیشن کی خلاف ورزی کا مقدمہ بنا۔ جب عدالتی کارروائی کے دوران پیرس ہلٹن کو جیل میں رکھنے کا مطالبہ کیا گیا تھا تو ان کی ماں کیتھی نے قہقہ لگایا تھا اور جج مائیکل سوؤر سے ان کا آٹوگراف لینے کے متعلق کہا۔ جب جج نے پیرس کو سزا سنائی تو وہ رونے لگیں اور ان کی ماں نے وکیلِ استغاثہ کو چلا کر کہا تھا کہ ’تم قابلِ نفرت ہو‘۔ پیرس ہلٹن کے ایک وکیل نے کہاتھا کہ جج کی طرف سے دی جانے والی سزا غیر منصفانہ ہے۔ | اسی بارے میں پیرس ہلٹن کو 45 دن قید کی سزا05 May, 2007 | فن فنکار یاہو پر لوگوں کو برٹنی کی تلاش06 December, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||