عراق پر حملہ جائز: برطانیہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ اور آسٹریلیا نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی کے اس بیان کو جس میں انہوں نے کہ امریکی سالاری میں عراق پر حملے کو غیر قانونی دیا تھا، کو رد کر دیا ہے۔ کوفی عنان نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ عراق امریکہ کی سالاری میں عراق پر حملہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی تھی۔ برطانیہ اور آسٹریلیا کے حکام نے کہا ہے کہ امریکہ کی سربراہی میں عراق پر حملے کا قانونی جواز موجود تھا اور کسی عالمی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی گئی تھی۔ کوفی عنان نے کہا تھا کہ عراق سے جنگ کرنے کے فیصلے کا حق یکطرفہ طور پر کسی ایک رکن ملک (امریکہ) کو نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو تھا۔ برطانیہ اور آسٹریلیا کے حکام نے کہا ہے کہ امریکہ کی سربراہی میں عراق پر حملے کا قانونی جواز موجود تھا اور کسی عالمی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی گئی تھی۔ برطانوی حکام نے کہ حملے سے پہلے برطانیہ کے اٹارنی جنرل نے یہ قرار دیا تھا کہ عراق پر حملے کا قانونی جواز موجود ہے۔ آسٹریلیا کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ عراق پر حملہ عالمی اصولوں کے عین مطابق تھا۔ اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے کہا کہ عراق پر یلغار کے بعد سے بین الاقوامی برادری نے دردناک سبق سیکھے ہیں اور وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس قسم کے مسائل کا بہترین حل اقوامِ متحدہ ہی کے ذریعے نکل سکتا ہے۔ جنوری میں عراق میں ہونے والے انتخابات پر بات کرتے ہوئے کوفی عنان نے کہا کہ اگر وہاں سکیورٹی کی صورتِ حال وہی رہی جو آج ہے تو قابلِ اعتماد انتخاب ہونا ممکن نہ ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||