زرداری ایک بار پھر بری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے آصف علی زرداری کو سٹیل ملز ریفرنس میں دی گئی سات سال قید اور تین کروڑ روپے جرمانے کی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بری کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس حکم کے باوجود بھی گزشتہ پونے آٹھ برسوں سے مسلسل قید آصف علی زرداری کی جیل سے فوری رہائی ممکن نہیں کیونکہ ایک مقدمے میں ان کی ضمانت ابھی نہیں ہوئی۔ جمعرات کے روز سماعت مکمل کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے جو جسٹس مولوی انوارالحق اور جسٹس محمد اسلم پر مشتمل تھا یہ فیصلہ سنایا۔ زرداری پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنی پارٹی کے دور حکومت میں کراچی میں قائم سٹیل ملز کے مختلف سودوں میں لاکھوں روپوں کا سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا تھا۔ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری کو پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہونے کے بعد پانچ نومبر سن انیس سو چھیانوے کو لاہور سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے خلاف مختلف حکومتوں نے ایک درجن سے زائد قتل اور بدعنوانی کے مقدمات قائم کر رکھے ہیں لیکن انہیں سزا صرف سٹیل ملز ریفرنس میں ہوئی تھی۔ احتساب بیورو کی جانب سے دائر کردہ اس مقدمے میں راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت نے انہیں سات سال سزا اور تین کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف انہوں نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل کر رکھی تھی۔ زرداری کے خلاف داخل کردہ دیگر مقدمات میں سے بعض میں وہ رہا ہوچکے ہیں یا ضمانت کرالی ہے تاہم ایک مقدمہ جو ’بی ایم ڈبلیو کار ریفرنس، کے نام سے قائم کیا گیا ہے اس میں ان کی ضمانت کی درخواست سپریم کورٹ میں زیرالتویٰ ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں اپیل کی سماعت عدالت نے مکمل کرلی تھی تاہم اپیل کنندگان کو عدالت نے جمعرات کو دوبارہ بلایا۔ زرداری کی اس مقدمے میں وکالت بابر اعوان اور فاروق نائک جبکہ احتساب بیورو کی وکالت بصیر احمد قریشی نے کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||