’مقدمہ ایک ڈھکوسلا ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تہران میں کنیڈین فوٹوگرافر زاھرہ کاظمی کے قتل کے مقدمے کی سماعت اچانک ختم کر دی گئی اور عدالت نے فیصلہ سنانے کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا ہے۔ زاھرہ کاظمی کے وکلاء اور ان کے خاندان والوں نے مقدمے کے ریکارڈ پر دستخط کرنے سے انکار کرتے ہوئے مقدمے کو ایک ’ڈھکوسلا‘ قرار دیا اور کہا کہ عدالت ایک اعلی اہلکار کو بچانے کے لیے ایک دوسرے شخص کو قربابی کا بکرا بنا رہی ہے۔ اتوار کی صبح تہران میں سفارت کاروں اور غیر ملکی صحافیوں کو ایرانی نژاد کنیڈین خاتون فوٹوگرافر کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث انٹیلی جنس ایجنٹ محمد رضا احمدی پر چلائے جانے والے مقدمے کی سماعت میں شرکت کرنے سے روک دیا گیا۔ ایرانی نژاد کنیڈین فوٹوگرافر زاھرہ کاظمی کو گزشتہ برس تہران میں پولیس کی حراست میں ہلاک ہو گئی تھیں۔ وکلاء کی ایک ٹیم نے جس کی قیادت نوبل انعام یافتہ شیریں عبادی کر رہی ہیں نے عدالت کو بتایا کہ زاھرہ کاظمی کے قتل کے الزام میں زیر حراست ایرانی خفیہ ادارے کے اہلکار محمد رضا احمدی بے قصور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زاھرہ کاظمی کی موت سر پر ایک ضرب لگنے سے واقع ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا زاہرہ کاظمی کی گرفتاری کے بعد ان کے سر پر ایک جوڈیشل آفیسر نے کوئی ضرب لگائئ تھی جو ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی۔ ایرانی حکام نے ابتدا میں یہ دعوی کیا تھا کہ کاظمی کی موت قدرتی تھی۔ تاہم بعد میں ایک حکومتی اہلکار نے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ موت سر پر ایک ضرب لگنے سے ہوئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||