’نسل کشی عالمی غفلت کا نتیجہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روانڈا کے صدر پال کگامے نے کہا ہے کہ اگر بین الاقوامی برادری چاہتی تو دس سال قبل ان کے ملک میں ہونے والی نسل کُشی جس میں سو دنوں میں آٹھ لاکھ افراد قتل ہوئے روکا جا سکتا تھا۔ روانڈا میں قتل عام کے دس سال پورے ہونے پر ملک کے دارالحکومت کِگالی میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر کگامے نے نسل کُشی کے دوران عالمی غفلت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ کانفرنس نسل کشی کی یاد میں ہفتہ بھر جاری رہنے والی تقریبات کا آغاز تھی۔ انہوں نے اس بات پر بھی شک کا اظہار کیا کہ مستقبل میں عالمی رویہ اس سے مختلف ہوگا۔
سن انیس سو چورانوے میں چند ہفتوں کے اندر ملک میں ہُوٹو نسل کی ملیشیا نے آٹھ لاکھ ٹٹسی اور اعتدال پسند ہوٹو قتل کر دیئے تھے۔ پال کِگامے کی جماعت آر پی ایف نے جو ٹٹسی باغیوں پر مشتمل ہے انیس سو چورانوے میں اقتدار سنبھال کر قتل عام بند کروایا تھا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ قتل عام بین الاقوامی برادری کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے، میں اسے سوچی سمجھی ناکامی کہوں گا‘۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ کس طرح روانڈا کے لاکھوں شہریوں کی زندگی کو قومی یا تزویراتی مفاد کی بنیاد پر غیر ضروری سمجھا جا سکتا ہے۔ روانڈا کے صدر نے کہا کہ ’کیا عالمی طاقتوں کا کوئی خفیہ ایجنڈا ہے؟ میں نہیں سمجھنا چاہوں گا کہ ان کا ایجنڈا نسل پرستی یا انسان کی رنگت سے متاثر ہوتا ہے، امید ہے میرا خیال غلط ہوگا‘۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان جو انیس سو چورانوے میں تنظیم کے شعبے ’پیس کیپنگ نے ذاتی اور ادارے کی سطح پر روانڈا میں قتل عام روکنے میں ناکامی کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ حالیہ دس سالوں میں ملک میں حالات معمول پر آ چکے ہیں، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے صدر کگامے کی حکومت پر دس سال قبل ہونے والے قتل عام کو اپنے مخالفین کو دبانے کے لئے بہانے کے طور پر استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔ گزشتہ ماہ فرانس میں ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ صدر کگامے اس راکٹ حملے میں ملوث تھے جس کے نتیجے میں اس وقت کے برگنڈی اور روانڈا کے صدور مارے گئے تھے اور جس کے بعد روانڈا میں قتل عام شروع ہوا تھا۔ صدر کگامے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ’فرانسیسی عناصر‘ پر ان لوگوں کو تربیت دینے اور اسلحہ فراہم کرنے کا الزام لگایا جنہوں نے بعد میں قتل عام کیا تھا‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||