عبوری آئین پر دستخط پر آمادگی؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اختلافات کے کچھ ہی گھنٹے بعد عراق کے عبوری آئین پر سوموار کو دستخط ہونے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم اب یہ خبر آئی ہے کہ کونسل اس سے پہلے شیعہ رہنما آیت اللہ سیستانی سے مشورہ کرے گی۔ اس سے پہلے ملنے والی خبروں میں کہا گیا تھا کہ امریکی انتظامیہ کے زیرِ قیادت قائم حکمران عراقی کونسل ملک کے عبوری آئین کی بعض شقوں پر پیدا ہونے والے اختلافات کو دور کرنے میں ناکام رہی جس کی وجہ سے اس دستاویز کی توثیق نہیں کی جا سکی۔ بتایا گیا تھا کہ کونسل میں موجود شیعہ نمائندے آئین میں کچھ تبدیلوں کا مطالبہ کر رہے تھے جو دوسرے نمائندوں کے لیے قابلِ قبول نہیں تھیں۔ اس سے قبل جمعہ کے روز ایک تقریب کا اہتمام کیا جانا تھا جس میں عبوری آئین پر دستخط ہونا تھے۔ تاہم اختلافات پیدا ہونے کے باعث تقریب مؤخر کر دی گئی تھی۔ اور کہا گیا تھا کہ فی الحال اس تقریب کے دوبارہ انعقاد کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں کیا گیا۔ تاہم اب دستخط کی تقریب سوموار کو ہو گی۔ بتایا گیا ہے کہ شیعہ ارکان صدارت اور مستقل آئین کی توثیق کرنے والے ریفرنڈم سے متعلق شقوں میں ترامیم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان ترامیم سے عراق کی شیعہ آبادی کی پوزیشن مستحکم ہوجائے گی کیونکہ وہ اکثریت میں ہیں، جبکہ اس طرح کرد اور سنی آبادی کو جو اقلیت میں ہے ویٹو کا حق حاصل نہیں رہے گا۔ عبوری آئین کا مقصد اس سال تیس جون تک عراق میں اقتدار قابض امریکی انتظامیہ سے مقامی لوگوں کو منتقل کرنا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||