| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں عبوری حکومت کی تیاری؟
عراق میں بگڑتی ہوئی صورت حال کے تناظر میں اب اس امر کے اشارے مل رہے ہیں کہ امریکہ عراق میں اقتدار کی منتقلی کو تیز کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ واشنگٹن میں صدر بش نے عراق کے امریکی منتظم اعلیٰ پال بریمر سے ایک ہنگامی ملاقات کی جس کے بعد پال بریمر نے تسلیم کیا کہ بش انتظامیہ کے زیر غور ایک تجویز کے مطابق عراق میں بھی افغانستان کی طرز پر عبوری حکومت قائم کی جائے گی۔ صدر بش سے ملاقات کرنے کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی صدر عراق میں انتقال اقتدار سے متعلق کئے گئے وعدوں پر قائم ہیں۔ صدر بش نے پال بریمر سے ملاقات ایک ایسے وقت کی ہے جب عراق کے جنوبی شہر ناصریہ میں ہونے والے ایک بم حملے میں کم سے کم ستائیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہلاک شدگان میں اب تک انیس اطالوی فوجی اور آٹھ عراقیوں کی شناخت ہوگئی ہے۔ امدادی کام کرنے والوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کچھ لوگ ابھی تک ملبے میں دبے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے بھی واشنگٹن میں اس طرح کے اشارے دیئے ہیں کہ امریکہ عراق میں اقتدار کی منتقلی پر غورو خوض کر رہا ہے۔ کولن پاول نے کہا کہ عراق میں انتقال کے بارے میں امریکی پوزیشن واضح ہے۔’ہوسکتا ہے اس میں بعض اختلافات سامنے آئیں لیکن میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ عراق میں امریکہ کا قیام اس وقت تک ہوگا جب تک عراقی عوام خود ایک جمہوری حکومت قائم نہیں کرلیتے۔ اور جس دن ایسا ہوگیا، امریکی انتظامیہ وہاں اپنا اثرورسوخ ختم کر لے گی۔‘ دوسری طرف اس امر کی تصدیق ہو گئی ہے کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے خبر دار کیا ہے کہ امریکی قیادت والی فوج کے مخالفین کے حمایت میں اضافے سے عراق میں جمہوری بنیادوں پر تعمیر نو کو ناکامی کا خطرہ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||