بھارت: مشین پر ووٹنگ کے دور میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں ماہرین ملک کے پہلے برقیاتی انتخابات کو کامیاب بنانے کے لئے اضافی وقت میں کام کر رہے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہوگا کہ پورے ملک میں ووٹنگ مشینوں پر کی جائے گی۔ ایک ارب کی آبادی والی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کےلئے جہاں زیادہ تر ووٹر غریب دیہی مزدور ہیں یہ ایک مشکل کام ہوگا۔ ملک کے شمال میں کوہ ہمالیہ سے لے کر جنوب میں کنیا کماری تک انتخابات میں برقیاتی ووٹنگ کو ممکن بنانے کے لئے دس لاکھ الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں یعنی ای وی ایم درکار ہوں گی۔
بھارت کے چیف الیکشن کمشنر ٹی ایس کرشنامورتی نے کہا ہے کہ ’یہ تاریخی انتخابات ہوں گے‘۔ حکومتی ادارے بھارت ایلکٹرانک لمیٹڈ(بی ای ایل) کے جنرل مینجر این این سمہا کا کہنا ہے کہ کمپنی چار لاکھ سینتالیس ہزار مشینیں تیار کر چکی ہے اور ساٹھ ہزار مشینی عنقریب تیار ہو جائیں گی۔ ووٹنگ کے لئے مشینیں تیار کرنے والی دوسری کمپنی ایلکٹرانک کارپوریشن آف انڈیا ہے۔ کئی ممالک نے بھارت میں تیار ہونے والی ان مشینوں میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
این این سمہا کا کہنا تھا کہ وہ یورپی ممالک اور امریکہ کے لئے بھی ایک ماڈل پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا اور افریقہ کے کچھ ممالک کو بھی یہ مشینیں فروخت کی جائیں گی۔ بھارت میں نومبر میں پانچ ریاستوں کے انتخابات میں ان مشینوں کو آزمائشی بنیادوں پر استعمال کیا گیا اور ان کے نتائج کافی حوصلہ افزا رہے۔ این این سمہا کا کہنا کہ ان مشینوں کے ذریعے ان پڑھ لوگ بھی آسانی سے ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ یہ مشین ایک منٹ میں پانچ ووٹ درج کر سکتی ہے۔ مشین بنانے والوں کا کہنا ہے کہ ان میں دھاندلی کا کوئی امکان نہیں۔ حال ہی میں کرناٹک ہائی کورٹ کے ایک جج نے ایک انتخابی عُذرداری پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ان مشینوں میں گڑ بڑ کرنا بہت مشکل ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||