BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 November, 2003, 07:33 GMT 12:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
استنبول حملے: نو افراد پر فرد جرم
بم حملوں کے ملزم کو عدالت لے جایا جا رہا ہے
صحافیوں کو عدالت میں جانے کی اجازت نہیں تھی

ترکی کے شہر استنبول میں پچھلے ہفتے ہونے والے خودکش بم حملوں کے سلسلے میں نو افراد پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔

ان نو افراد کو منگل کے روز ایک سکیورٹی عدالت میں پیش کیا گیا۔ خبر رساں ایجنسی ’اناتولیا‘ کے مطابق ان پر ایک غیر قانونی تنظیم سے تعلق رکھنے اور اس کی مدد کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

حراست میں لئے گئے تین اور افراد کو پیر کی رات کو چھوڑ دیا گیا تھا۔

برطانوی قونصل خانے کا ملبہ
برطانوی قونصل خانے پر حملہ بیس نومبر کو ہوا تھا

استنبول کے گورنر معمر گولر نے کہا ہے کہ پولیس نے برطانوی قونصل خانے پر حملے کے بہت اہم سراغ حاصل کر لئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے اس حملے کے ذمہ دار افراد کی شناخت کر لی ہے تاہم انہوں نے خودکش حملہ آور کا نام بتانے سے گریز کیا۔

لیکن ترکی کے ایک روزنامے ’مِلّیت‘ کا کہنا ہے کہ برطانوی قونصل خانے پر حملے میں استعمال کیے گئے وین کے ڈرائیور کی شناحت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ہو چکی ہے۔ اخبار کے مطابق حملہ آور کا نام فریدون اگرلو تھا اور وہ چیچنیا اور افغانستان میں جہاد کی غرض سے لڑا تھا۔

پولیس نے اخبار کی اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ذرائع ابلاغ ایسی معلومات شائع کر کے ان کی تفتیش خراب کر رہے ہیں۔

فریدون اگرلو کا نام استنبول کے دو یہودی عبادت خانوں پر بم حملوں کے بعد بھی پولیس کی مطلوبہ فہرست پر آیا تھا۔ اخبار ’ملیت‘ کے مطابق اس نے دونوں حملوں میں استعمال کی گئی گاڑیاں ایک ہی وقت خریدی تھیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد