| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
استنبول دھماکوں میں کئی ہلاک
ترکی کے دارالحکومت استنبول میں کم از کم دو زبردست دھماکے ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں پچیس افراد کے ہلاک اور تین سو سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جبکہ کئی عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں۔ ترکی میں گزشتہ ہفتے بھی بم دھماکے ہوئے تھے جن میں تئیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پہلے دھماکے میں شہر کے شمال میں واقع ایک بین الاقوامی بینک ایچ ایس بی سی کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق عمارت کا کچھ حصہ تباہ ہوگیا ہے ۔ ترک ٹیلیویژن چینل این ٹی وی کے مطابق ایچ ایس بی سی بینک کے صدر دفتر کے باہر جسمانی اعضاء بکھرے پڑے ہیں جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم پانچ بتائی گئی ہے۔ بینک کی پندرہ منزلہ عمارت ایک نہایت مصروف تجارتی مرکز میں واقع ہے۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ دھماکے کے وقت اس علاقے میں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ دوسرا دھماکہ شہر کے وسطی حصے میں واقع برطانوی قونصل خانے کے نزدیک ہوا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ اس عمارت کا کچھ حصہ بھی تباہ ہوگیا ہے۔ بینک کی عمارت کے نزدیک پہلا دھماکہ ترکی کے وقت کے مطابق صبح کے گیارہ بج کر دس منٹ پر ہوا جبکہ دوسرا دھماکہ قونصل خانے کے باہر صرف دو منٹ بعد ہوا ہے۔ بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے مطابق کئی افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں اور شہر کا ٹیلی فون اور بجلی کا نظام جزوی طور پر معطل ہوگیا ہے۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ برطانوی قونصل خانے کے قریب ہونے والے حملے میں دس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ترکی کے وزیرِ خارجہ عبداللہ گل نے ان دھماکوں پر ردِ عمل میں کہا ہے کہ ترکی دہشتگردی کے آگے سر نہیں جھکائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||