فرخندہ کا جنازہ عورتوں نے اٹھایا

کابل میں توہین مذہب کے جھوٹے الزام میں ہلاک کی جانے والی خاتون کا جنازہ عورتوں نے اٹھایا۔

کابل میں فرخندہ نامی خاتون کو توہین مذہب کے جھوٹے الزام میں ہلاک کیے جانے کے واقع پر خواتین نے شدید احتجاج کیا۔
،تصویر کا کیپشنکابل میں فرخندہ نامی خاتون کو توہین مذہب کے جھوٹے الزام میں ہلاک کیے جانے کے واقع پر خواتین نے شدید احتجاج کیا۔
خواتین نے احتجاجاً مردوں کو فرخندہ کا جنازہ بھی اٹھانے نہیں دیا۔
،تصویر کا کیپشنخواتین نے احتجاجاً مردوں کو فرخندہ کا جنازہ بھی اٹھانے نہیں دیا۔
خواتین نے فرخندہ کو خود لحد میں اتارا
،تصویر کا کیپشنخواتین نے فرخندہ کو خود لحد میں اتارا
فرخندہ کو کابل میں توہین مذہب کے شبہہ میں ایک مشتعل ہجوم نے ہلاک کر دیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنفرخندہ کو کابل میں توہین مذہب کے شبہہ میں ایک مشتعل ہجوم نے ہلاک کر دیا تھا۔
خواتین نے جنازے کے وقت شدید احتجاج کیا اور حکومت سے اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔
،تصویر کا کیپشنخواتین نے جنازے کے وقت شدید احتجاج کیا اور حکومت سے اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔
حکومت نے اس واقعے پر کارروائی کرتے ہوئے کچھ لوگوں کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنحکومت نے اس واقعے پر کارروائی کرتے ہوئے کچھ لوگوں کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔
خواتین نے افغان اور اسلامی روایات کےبرخلاف فرخندہ کا جنازہ خود اٹھایا اور قبرستان تک لے کر گئیں۔
،تصویر کا کیپشنخواتین نے افغان اور اسلامی روایات کےبرخلاف فرخندہ کا جنازہ خود اٹھایا اور قبرستان تک لے کر گئیں۔
خواتین میں اس واقعے کے خلاف شدید غم اور غصہ پایا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنخواتین میں اس واقعے کے خلاف شدید غم اور غصہ پایا جاتا ہے۔
فرخندہ کے والد نے وقتی طور پر فرخندہ کو ذہنی مریض قرار دیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنفرخندہ کے والد نے وقتی طور پر فرخندہ کو ذہنی مریض قرار دیا تھا۔