برفیلے راستوں پر جیپ ریلی

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مظفرآباد سے پیرچناسی تک جیپ ریلی

سنوکراس ریلی میں شریک ایک جیپ اپنی منزل کی جانب گامزن ( تصاویر و تحریر اورنگزیب جرال)
،تصویر کا کیپشنسنوکراس ریلی میں شریک ایک جیپ اپنی منزل کی جانب گامزن ( تصاویر و تحریر اورنگزیب جرال)
جیپ ریلی میں کل 25 جیپوں نے شرکت کی اور مظفرآباد سے پیرچناسی تک 30 کلومیٹر کا راستہ تین دن میں طے کیا۔
،تصویر کا کیپشنجیپ ریلی میں کل 25 جیپوں نے شرکت کی اور مظفرآباد سے پیرچناسی تک 30 کلومیٹر کا راستہ تین دن میں طے کیا۔
اس جیپ ریلی کا آخری مقام پیرچناسی ہے جہاں اس وقت 4 سے 5 فٹ برف ہے۔
،تصویر کا کیپشناس جیپ ریلی کا آخری مقام پیرچناسی ہے جہاں اس وقت 4 سے 5 فٹ برف ہے۔
جیپ ریلی میں مقامی جیپ ڈرائیورز کے علاوہ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور سے بھی ڈرائیورز نے شرکت کی۔
،تصویر کا کیپشنجیپ ریلی میں مقامی جیپ ڈرائیورز کے علاوہ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور سے بھی ڈرائیورز نے شرکت کی۔
ایک موٹرسائیکل سوار جیپ ریلی کے راستے میں برف کی وجہ سے پھنسا ہوا ہے۔
،تصویر کا کیپشنایک موٹرسائیکل سوار جیپ ریلی کے راستے میں برف کی وجہ سے پھنسا ہوا ہے۔
اس ریلی کا انعقاد مظفرآباد جیپ کلب نے کیا۔ یہ ریلی گزشتہ چار سال سے موسم سرما میں منعقد کی جا رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشناس ریلی کا انعقاد مظفرآباد جیپ کلب نے کیا۔ یہ ریلی گزشتہ چار سال سے موسم سرما میں منعقد کی جا رہی ہے۔
شدید موسم کی باوجود جیپ ریلی میں شائقین نے دلچسپی کا اظہار کیا۔
،تصویر کا کیپشنشدید موسم کی باوجود جیپ ریلی میں شائقین نے دلچسپی کا اظہار کیا۔
پیرچناسی کا سیاحتی مقام سراں جہاں سیاحوں کی رہائش کے لیے چند کمروں پر مشتمل واحد سرکاری ریسٹ ہاؤس ہے۔
،تصویر کا کیپشنپیرچناسی کا سیاحتی مقام سراں جہاں سیاحوں کی رہائش کے لیے چند کمروں پر مشتمل واحد سرکاری ریسٹ ہاؤس ہے۔
جیپ ریلی کا مقصد مہمات کی سیاحت کو فروغ دینا ہے۔ پاکستان میں شدت پسندی کے واقعات کی وجہ سے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے جبکہ کشمیر میں سہولیات کے فقدان کے باعث اس طرف مقامی سیاح بھی کم ہی رخ کرتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنجیپ ریلی کا مقصد مہمات کی سیاحت کو فروغ دینا ہے۔ پاکستان میں شدت پسندی کے واقعات کی وجہ سے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے جبکہ کشمیر میں سہولیات کے فقدان کے باعث اس طرف مقامی سیاح بھی کم ہی رخ کرتے ہیں۔