نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کے تاریخی پشوپتی مندر میں منعقدہ شیوراتری میلے کی تصویری جھلکیاں
،تصویر کا کیپشنہر سال ہندو نیپال کے شہر کھٹمنڈو کے پشوپتی مندر میں شیوا کی رات منانے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ اس میلے میں نیپال اور بھارت سے ہزاروں کی تعداد میں ہندو زائرین شرکت کرتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق میلے میں شرکت کرنے والے زائرین کی تعداد تقریباً 10لاکھ ہوگی۔
،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق اس سال مندر میں بھارت سے آنے والے سادھوؤں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 3500 بھارتی سادھو میلے میں شرکت کریں گے۔
،تصویر کا کیپشنمندر کے قریب دریائے باگمتی کے کنارے چند سادھو گانجا پی رہے ہیں۔ سادھوؤں کا ماننا ہے کہ شیوا بھگوان بھی گانجا پیتے تھے۔ شیوا اپنے الجھے ہوئے لمبے بالوں، سانپوں کی مالا اور راکھ سے اٹے جسم کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپشوپتی مندر نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کے مشرقی حصے میں واقع ہے۔ شیوراتری میلے کے لیے مندر کے اردگرد کا علاقہ رنگ برنگے جھنڈوں، پھولوں اور روشنیوں سے سجایا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنہندو سادھو بھگوان شیوا جیسا حلیہ اپناتے ہیں اور شیوا کا ہتھیار تریشول بھی اٹھائے رکھتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپشوپتی مندر کا شمار یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں ہوتا ہے۔ یہاں کے متعدد مندر اور مورتیاں پیچیدہ کندہ کاری کے حوالے سے شہرت رکھتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبہت سارے غیرملکی سیاح پشوپتی کے علاقے میں شیوراتری کا میلہ دیکھنے آتے ہیں، امریکی ریاست منیسوٹا سے شیوراتری میلے میں شرکت کے لیے آیا ایک جوڑا۔
،تصویر کا کیپشنبھارتی زائرین کے علاوہ مندر میں ہزاروں کی تعداد میں مقامی نیپالی ہندو زائرین بھی شرکت کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ مقامی ثقافت کا بھی مظاہرہ کرتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشننیپال میں ہندو آبادی اکثریت میں ہے۔ میلے کے موقع پر عام لوگوں کے علاوہ نیپال کے صدر، وزرا اور ملک کے سابق بادشاہ اور ملکہ بھی ’شیو لنگ‘ پوجا کے لیے آتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق مندر میں ملائیشیا، سنگاپور اور انڈونیشیا سے بھی ہندو آتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنمیلے میں شرکت کرنے والوں میں سب سے نمایاں بھارتی زائرین ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھی چند ماہ پہلے اس مندر میں آئے تھے۔ تحریر و تصاویر: سریندر پھایول