لاہور کے قریب پاک بھارت سرحد پر واہگہ کے مقام پر خودکش حملے میں ہلاکتیں اور سو سے زائد افراد زخمی۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان اور بھارت کو ملانے والی لاہور کے قریب واہگہ کی سرحدی راہداری کے قریب اتوار کی شام ہونے والے خودکش بم حملے میں ہلاکتوں کی 55 ہوگئی۔
،تصویر کا کیپشنپنجاب پولیس کی ترجمان نبیلہ غضنفر کے مطابق اس خود کش حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جن کی تعداد سو کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ریجنرز کے تین اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنکالعدم تنظیم جماعت الاحرار کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کے دفتر فون کر کے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ یہ تنظیم قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں سرگرم ہے۔ پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس مشتاق سکھیرا نے مقامی ٹی وی چینل دنیا نیوز سے بات کرتے ہوئے اِس بات کی تصدیق کی کہ دھماکہ خود کش تھا۔
،تصویر کا کیپشنیہ خود کش دھماکہ واہگہ سرحد پر پرچم اتارنےکی تقریب کے ختم ہونے کے تھوڑی دیر بعد اس وقت ہوا جب لوگ تقریب سے واپس کار پارکنگ میں پہنچے جہاں خودکش حملہ آور موجود تھا۔
،تصویر کا کیپشناس تقریب کو دیکھنے کے لیے سرحد کے دونوں طرف ہزاروں لوگ جمع ہوتے ہیں اور اتوار کے دن یہ لوگوں کی تفریح کی ایک اہم جگہ ہوتی ہے۔ڈی رینجرز طاہر خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پرچم اتارنے کی تقریب کے ختم ہونے کے آدھے گھنٹے بعد یہ واقعہ پیش آیا۔
،تصویر کا کیپشنمقامی گھرکی ہسپتال میں لاشوں کو رکھنے کی جگہ نہ ہونے باعث لاشیں پارکنگ کے احاطے میں رکھی گئیں۔ لاہور کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
،تصویر کا کیپشنہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کا تعلق لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے ہے۔
،تصویر کا کیپشنواقعے کے بعد سرحدی مقام واہگہ پر نیم فوجی دستوں نے سکیورٹی انتظامات میں مزید اضافہ کر دیا ہے جبکہ واہگہ پر منقعد ہونے والے پریڈ کو عام لوگوں کے لیے تین دن کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشندھماکہ اتوار کو ہوا اور اس دن لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں 8ویں محرم کے ماتمی جلوس برآمد ہو رہے تھے جس کی وجہ سے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ سی آئی ڈی کے سربراہ افتخار احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں لاہور کے کنٹونمنٹ کے علاقے اور رائے ونڈ میں ایسے کسی ممکنہ حملے کی اطلاعات تھیں اور اس کے علاوہ نو دس محرم کے حوالے سے بھی سکیورٹی خدشات موجود تھے لیکن کسی عوامی مقام پر حملے سے متعلق انھیں کوئی پیشگی اطلاعات نہیں تھیں۔
،تصویر کا کیپشنواہگہ پر خودکش حملے کے بعد بھارت نے اپنی حدود میں سکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کر دیا ہے اور سرحدی راہداری کی جانب جانے والی گاڑیوں کی تلاشی لی جا رہی ہے۔
،تصویر کا کیپشناس کے علاوہ بھارتی سرحدی فورس بی ایس ایف نے واہگہ کے مقام پر حفاظتی گشت میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔