ابوظہبی میں پاکستان کی تاریخی جیت

پاکستان نے ابوظہبی ٹیسٹ میچ میں آسٹریلیا کو 356 رنز سے شکست دے کر 32 سال کے بعد آسٹریلیا کو ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش کر دیا ہے۔

پاکستان نے ابوظہبی ٹیسٹ میچ میں آسٹریلیا کو 356 رنز سے شکست دے کر 32 سال کے بعد آسٹریلیا کو ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش کر دیا ہے۔ یونس خان کو مین آف دی سیریز کے اعزاز سے نوازا گیا۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان نے ابوظہبی ٹیسٹ میچ میں آسٹریلیا کو 356 رنز سے شکست دے کر 32 سال کے بعد آسٹریلیا کو ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش کر دیا ہے۔ یونس خان کو مین آف دی سیریز کے اعزاز سے نوازا گیا۔
ٹیسٹ سیریز دو صفر سے جیتنے کے نتیجے میں پاکستان نے آئی سی سی کی عالمی ٹیسٹ رینکنگ میں تیسری پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ اب جنوبی افریقہ پہلے اور آسٹریلیا دوسرے نمبر پر ہیں۔
،تصویر کا کیپشنٹیسٹ سیریز دو صفر سے جیتنے کے نتیجے میں پاکستان نے آئی سی سی کی عالمی ٹیسٹ رینکنگ میں تیسری پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ اب جنوبی افریقہ پہلے اور آسٹریلیا دوسرے نمبر پر ہیں۔
ابوظہبی ٹیسٹ کے آخری دن اس نے آسٹریلوی مزاحمت کو کھانے کے وقفے کے بعد قابو کرتے ہوئے 356رنز کی جیت سے سیریز دو صفر کی شاندار کارکردگی پر ختم کی۔ پاکستان نے 83-1982 ء کے بعد پہلی مرتبہ آسٹریلیا کے خلاف کلین سوئپ کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنابوظہبی ٹیسٹ کے آخری دن اس نے آسٹریلوی مزاحمت کو کھانے کے وقفے کے بعد قابو کرتے ہوئے 356رنز کی جیت سے سیریز دو صفر کی شاندار کارکردگی پر ختم کی۔ پاکستان نے 83-1982 ء کے بعد پہلی مرتبہ آسٹریلیا کے خلاف کلین سوئپ کیا ہے۔
یہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی رنز کے اعتبار سے سب سے بڑی جیت ہے جبکہ آسٹریلیا کی یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی تیسری بدترین شکست ہے۔ذوالفقار بابر نے ایک سو بیس رنز کے عوض پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ اس میچ میں انھوں نےسات وکٹیں حاصل کیں جبکہ سیریز میں ان کی حاصل کردہ وکٹوں کی تعداد 14 رہی۔
،تصویر کا کیپشنیہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی رنز کے اعتبار سے سب سے بڑی جیت ہے جبکہ آسٹریلیا کی یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی تیسری بدترین شکست ہے۔ذوالفقار بابر نے ایک سو بیس رنز کے عوض پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ اس میچ میں انھوں نےسات وکٹیں حاصل کیں جبکہ سیریز میں ان کی حاصل کردہ وکٹوں کی تعداد 14 رہی۔
آسٹریلوی بیٹسمینوں کے پیروں تلے زمین سرکادینے والے پاکستانی سپنرز تھے۔ یاسر شاہ اور محمد حفیظ نے دو دو وکٹوں کے ساتھ اپنی موجودگی کا احساس دلایا
،تصویر کا کیپشنآسٹریلوی بیٹسمینوں کے پیروں تلے زمین سرکادینے والے پاکستانی سپنرز تھے۔ یاسر شاہ اور محمد حفیظ نے دو دو وکٹوں کے ساتھ اپنی موجودگی کا احساس دلایا
یاسر شاہ نے اس سیریز میں بارہ وکٹیں حاصل کیں۔
،تصویر کا کیپشنیاسر شاہ نے اس سیریز میں بارہ وکٹیں حاصل کیں۔
میچ کے آخری دن اسمتھ اور مارش نے اننگز شروع کی ۔پہلا سیشن پاکستانی بولرز کے لیے صبر آزما رہا جس میں مچل مارش کی وکٹ ہی پاکستانی ٹیم کو مل سکی۔ وہ سنتالیس رنز بناکر محمد حفیظ کی گیند پر اسد شفیق کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔ کھانے کے وقفے کے بعد آسٹریلوی مزاحمت دم توڑتی نظرآئی۔ سمتھ 97 رنز بنا کر سب سے نمایاں بلے باز رہے اور ان کے آؤٹ ہونے کے بعد ٹیم کے مجموعی سکور پر صرف 8 رنز کا اضافہ ہو سکا اور اس کے چار وکٹیں گریں۔
،تصویر کا کیپشنمیچ کے آخری دن اسمتھ اور مارش نے اننگز شروع کی ۔پہلا سیشن پاکستانی بولرز کے لیے صبر آزما رہا جس میں مچل مارش کی وکٹ ہی پاکستانی ٹیم کو مل سکی۔ وہ سنتالیس رنز بناکر محمد حفیظ کی گیند پر اسد شفیق کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔ کھانے کے وقفے کے بعد آسٹریلوی مزاحمت دم توڑتی نظرآئی۔ سمتھ 97 رنز بنا کر سب سے نمایاں بلے باز رہے اور ان کے آؤٹ ہونے کے بعد ٹیم کے مجموعی سکور پر صرف 8 رنز کا اضافہ ہو سکا اور اس کے چار وکٹیں گریں۔