جہاں جنگلی ہرن آپ کے ہاتھ سے کھائیں

قدرت سے ہم آہنگ راجستھان کے بِشنُو

بھارت کے بِشنُو قبیلے کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ لوگ تمام زندہ چیزوں کے ساتھ ہمدردی کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں اور خاص طور پر درختوں کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ بشنو تھر کے صحرا کے ساتھ منسلک بارانی علاقے میں رہتے ہیں۔ فوٹوگرافر ارندم مکھرجی نے راجستھان میں جودھپور کے قریب ایک دیہات میں کچھ وقت گزارا۔
،تصویر کا کیپشنبھارت کے بِشنُو قبیلے کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ لوگ تمام زندہ چیزوں کے ساتھ ہمدردی کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں اور خاص طور پر درختوں کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ بشنو تھر کے صحرا کے ساتھ منسلک بارانی علاقے میں رہتے ہیں۔ فوٹوگرافر ارندم مکھرجی نے راجستھان میں جودھپور کے قریب ایک دیہات میں کچھ وقت گزارا۔
بشنو زمین اور اس کے جانداروں کے ساتھ ہم آہنگ رہتے ہیں۔ یہاں آپ جودھپور کے قریبی جنگل میں ایک شخص کو دھبے دار ہرنوں کے ساتھ دیکھ سکتے ہیں جنھیں مقامی لوگ ’چِنکارا‘ کہتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبشنو زمین اور اس کے جانداروں کے ساتھ ہم آہنگ رہتے ہیں۔ یہاں آپ جودھپور کے قریبی جنگل میں ایک شخص کو دھبے دار ہرنوں کے ساتھ دیکھ سکتے ہیں جنھیں مقامی لوگ ’چِنکارا‘ کہتے ہیں۔
اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ بھارت کے ’اصل ماہرینِ نباتات و جمادات‘ بشنو قبیلے کے لوگ ہی ہیں۔
،تصویر کا کیپشناکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ بھارت کے ’اصل ماہرینِ نباتات و جمادات‘ بشنو قبیلے کے لوگ ہی ہیں۔
عالمی سطح پر ماحولیات کی تحریکوں سے برسوں پہلے سینکڑوں بشنو جانداروں اور ان کے ماحول کے بچاؤ کی خاطر اپنی جانیں دے چکے تھے۔ایک مقامی ریستوران میں لگی ہوئی یہ پینٹنگ سنہ 1730 کے ایک واقعے کی عکاسی کر رہی ہے جب 363 بشنو مردوں، عورتوں اور بچوں نے درختوں کو بچانے کے لیے اس وقت اپنی جانیں دے دیں جب ایک بادشاہ نے اپنے لوگوں کو یہاں محل کی تعمیر کے لیے جنگل صاف کرنے کے لیے بھیجا۔
،تصویر کا کیپشنعالمی سطح پر ماحولیات کی تحریکوں سے برسوں پہلے سینکڑوں بشنو جانداروں اور ان کے ماحول کے بچاؤ کی خاطر اپنی جانیں دے چکے تھے۔ایک مقامی ریستوران میں لگی ہوئی یہ پینٹنگ سنہ 1730 کے ایک واقعے کی عکاسی کر رہی ہے جب 363 بشنو مردوں، عورتوں اور بچوں نے درختوں کو بچانے کے لیے اس وقت اپنی جانیں دے دیں جب ایک بادشاہ نے اپنے لوگوں کو یہاں محل کی تعمیر کے لیے جنگل صاف کرنے کے لیے بھیجا۔
بشنوؤں کے دیہات میں پرندے اور جانور بے خوف گھومتے پھرتے رہتے ہیں اور آپ انھیں انسانوں کے ہاتھوں سے کھاتا دیکھ سکتے ہیں۔ جودھپور کے قریبی گاؤں جلوال میں کالے ہرن اور چنکارا دونوں وسودھانند بشنوئی کے ہاتھوں سے کھانا پسند کرتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبشنوؤں کے دیہات میں پرندے اور جانور بے خوف گھومتے پھرتے رہتے ہیں اور آپ انھیں انسانوں کے ہاتھوں سے کھاتا دیکھ سکتے ہیں۔ جودھپور کے قریبی گاؤں جلوال میں کالے ہرن اور چنکارا دونوں وسودھانند بشنوئی کے ہاتھوں سے کھانا پسند کرتے ہیں۔
قدرت کے ساتھ بشنوؤں کی ہم آہنگی اور اپنے ماحول کو آلودگی سے بچانا ان لوگوں کے رہن سہن میں بھی نمایاں ہے۔ بشنو گوشت نہیں کھاتے اور زیادہ تر سفید اور مٹی کے رنگ کے کپڑے پہنتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنقدرت کے ساتھ بشنوؤں کی ہم آہنگی اور اپنے ماحول کو آلودگی سے بچانا ان لوگوں کے رہن سہن میں بھی نمایاں ہے۔ بشنو گوشت نہیں کھاتے اور زیادہ تر سفید اور مٹی کے رنگ کے کپڑے پہنتے ہیں۔
راجستھان کی خواتین سونے کے زیورات کی شوقین ہیں اور سونے کو امارت کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے اور اچھی سرمایہ کاری بھی۔ یہاں سیاری دیوی نے جو زیورات پہنے ہوئے ہیں وہ بشنو خواتین کا خاص پہناوا ہیں۔
،تصویر کا کیپشنراجستھان کی خواتین سونے کے زیورات کی شوقین ہیں اور سونے کو امارت کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے اور اچھی سرمایہ کاری بھی۔ یہاں سیاری دیوی نے جو زیورات پہنے ہوئے ہیں وہ بشنو خواتین کا خاص پہناوا ہیں۔
بشنو افیون کے شوقین ہوتے ہیں اور مہمانوں کو افیون پیش کرتے ہیں جسے مقامی زبان میں ’امل‘ کہا جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنبشنو افیون کے شوقین ہوتے ہیں اور مہمانوں کو افیون پیش کرتے ہیں جسے مقامی زبان میں ’امل‘ کہا جاتا ہے۔
بشو خواتین کھیتوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبشو خواتین کھیتوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں۔
بشنو قبیلہ شکاریوں کے خلاف شدید مزاحمت کے لیے مشہور ہے۔گذشتہ کچھ برسوں میں یہاں کے لوگوں نے کئی امیر اور بااثر لوگوں کے خلاف مقدمات لڑے ہیں جن میں بالی وڈ کے اداکار بھی شامل تھے۔ تمام تصاویر بشکریہ ارندم مکھرجی، ایجنسی جینیسِس
،تصویر کا کیپشنبشنو قبیلہ شکاریوں کے خلاف شدید مزاحمت کے لیے مشہور ہے۔گذشتہ کچھ برسوں میں یہاں کے لوگوں نے کئی امیر اور بااثر لوگوں کے خلاف مقدمات لڑے ہیں جن میں بالی وڈ کے اداکار بھی شامل تھے۔ تمام تصاویر بشکریہ ارندم مکھرجی، ایجنسی جینیسِس