دلکش ادب پاروں اور رنگا رنگ تقاریب نے اہلِ اسلام آباد کے دل جیت لیے
،تصویر کا کیپشنمیلے کی ایک بہت اہم اجلاس شمالی زبانوں کے بارے میں تھا، جس میں بلتی زبان کے شاعر اسلم ساحر (دائیں)، واخی کے نذیر بلبل اور شینا کے شاعر جمشید دکھی نے شرکت کی۔
،تصویر کا کیپشنایک سامع واخی شاعر نذیر بلبل کا کلام بڑے انہماک سے سنتے ہوئے۔
،تصویر کا کیپشنمستنصر حسین تارڑ نے گلگت بلتستان کے شعرا کو بھرپور خراجِ تحسین عطا کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرے شاعر ہیں اور میں ان کا ہوں۔
،تصویر کا کیپشننامور مصنف انتظار حسین خاص طور پر لاہور سے میلے میں حصہ لینے کے لیے آئے تھے اور انھوں نے تقریباً ہر اجلاس میں شرکت کی۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں سیاسی کارٹونوں کے بارے میں اجلاس میں معروف کارٹونسٹ فوزیہ من اللہ نے کئی دلچسپ کارٹون دکھائے۔ اس کارٹون میں آج کے ماحول کا عکاس ایک نیا قاعدہ دکھایا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشن فوزیہ من اللہ کا ایک کارٹون جس کے عنوان کا اردو ترجمہ ہے، ’شہنشاہ نے کپڑے نہیں پہن رکھے۔‘ یہ کارٹون نیپال کے ایک رسالے کے سرورق پر شائع ہوا۔
،تصویر کا کیپشنصحافی اور سماجی کارکن جگنو محسن (دائیں) نے بے نظیر بھٹو کے بارے میں انھی کے انداز میں سنایا جس سے تمام ہال زعفران زار ہو گیا۔
،تصویر کا کیپشناسلام آباد سے تعلق رکھنے والے اردو کی نامور افسانہ نگار نیلوفر اقبال اپنا افسانہ ’کرسٹل ہاؤس‘ سناتے ہوئے۔
،تصویر کا کیپشنمشہور ماہرِ لسانیات ڈاکٹر طارق رحمٰن اپنی کتاب کی تقریبِ رونمائی میں کتاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے۔