رامائن کا ایک نادر نسخہ

راجھستان کے دربار میں جس انگریز سرکار کو پیش کیا گیا

برٹش لائبریری نے ڈیڑھ سو برس میں پہلی مرتبہ ہندوؤں کی کتاب رامائن کے ایک نادر نسخے کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے یکجا کیا ہے۔ اس پینٹنگ کے کونے میں بھگوان رام کو ان کے والد سمجھا رہے ہیں کہ انھیں ہی ان کے بعد تحت نشین ہونا ہے۔
،تصویر کا کیپشنبرٹش لائبریری نے ڈیڑھ سو برس میں پہلی مرتبہ ہندوؤں کی کتاب رامائن کے ایک نادر نسخے کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے یکجا کیا ہے۔ اس پینٹنگ کے کونے میں بھگوان رام کو ان کے والد سمجھا رہے ہیں کہ انھیں ہی ان کے بعد تحت نشین ہونا ہے۔
سترھویں صدی کےاس نسخے کے کچھ حصہ برطانیہ کے پاس اور کچھ بھارت میں تھے۔ اب برٹش لائبریری اور ممبئی کے ایک عجائب گھر نے اس نسخے کو یکجا کیا ہے۔ اس تصویر میں بھگوان رام اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ سلطنت چھوڑ کر جا رہے ہیں جب ان کی سوتیلی ماں نے اپنے بیٹے کو جانشیں بنوانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں ۔
،تصویر کا کیپشنسترھویں صدی کےاس نسخے کے کچھ حصہ برطانیہ کے پاس اور کچھ بھارت میں تھے۔ اب برٹش لائبریری اور ممبئی کے ایک عجائب گھر نے اس نسخے کو یکجا کیا ہے۔ اس تصویر میں بھگوان رام اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ سلطنت چھوڑ کر جا رہے ہیں جب ان کی سوتیلی ماں نے اپنے بیٹے کو جانشیں بنوانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں ۔
اس تصاویر میں رام بھگوان کے سفر کے مختلف مناظر دکھائے گئے ہیں۔ بھگوان رام ایک چٹان پر بیٹھ کر جنگل کے حسن پر حیران ہو رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناس تصاویر میں رام بھگوان کے سفر کے مختلف مناظر دکھائے گئے ہیں۔ بھگوان رام ایک چٹان پر بیٹھ کر جنگل کے حسن پر حیران ہو رہے ہیں۔
بارہ سو صفحات پر مشتمل اس نسخے کو ایک فن کار نے بہت سے معاونین کے ساتھ مل کر مرتب کیا تھا۔ جب بھگوان رام بن باس میں تھے اس وقت ان کی جوتی کو ایودھیا میں تخت پر رکھ دیا گیا۔
،تصویر کا کیپشنبارہ سو صفحات پر مشتمل اس نسخے کو ایک فن کار نے بہت سے معاونین کے ساتھ مل کر مرتب کیا تھا۔ جب بھگوان رام بن باس میں تھے اس وقت ان کی جوتی کو ایودھیا میں تخت پر رکھ دیا گیا۔
سترھویں صدی میں بنایا جانے والا یہ نسخہ رامائن کا سب سے خوبصورت اور سب سے اہم نسخہ تصور کیا جاتا ہے جو راجھستان کے دربار کے لیے بنایا گیا تھا۔ سیتا کو راؤن اٹھا کر لے جاتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنسترھویں صدی میں بنایا جانے والا یہ نسخہ رامائن کا سب سے خوبصورت اور سب سے اہم نسخہ تصور کیا جاتا ہے جو راجھستان کے دربار کے لیے بنایا گیا تھا۔ سیتا کو راؤن اٹھا کر لے جاتا ہے۔
اس نسخے کے چند حصے انیسویں صدی میں تحفے کے طور پر برطانوی حکام کو پیش کیے گئے تھے۔ بھگوان رام کے بھائی سوگریو اپنی فوجوں کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں تاکہ سیتا کو تلاش کیا جا سکے۔
،تصویر کا کیپشناس نسخے کے چند حصے انیسویں صدی میں تحفے کے طور پر برطانوی حکام کو پیش کیے گئے تھے۔ بھگوان رام کے بھائی سوگریو اپنی فوجوں کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں تاکہ سیتا کو تلاش کیا جا سکے۔
ہنومان لنکا کے جزیرے میں سیتا دیوی کو تلاش کر لیتے ہیں جہاں ان کی حفاظت پر کئی بلائیں معمور تھیں۔ سیتا دیوی نے ہنومان کے ساتھ آنے سے انکار کردیا اور کہا کہ یہ اعزاز تو بھگوان راما کو ہی حاصل ہونا ہے۔
،تصویر کا کیپشنہنومان لنکا کے جزیرے میں سیتا دیوی کو تلاش کر لیتے ہیں جہاں ان کی حفاظت پر کئی بلائیں معمور تھیں۔ سیتا دیوی نے ہنومان کے ساتھ آنے سے انکار کردیا اور کہا کہ یہ اعزاز تو بھگوان راما کو ہی حاصل ہونا ہے۔
ہنومان ید یعنی جنگ میں زخمی ہو جاتے ہیں اور انھیں بھگوان بھرما کی مدد سے ہی فتح نصیب ہوتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنہنومان ید یعنی جنگ میں زخمی ہو جاتے ہیں اور انھیں بھگوان بھرما کی مدد سے ہی فتح نصیب ہوتی ہے۔
بھگوان رام اپنے بھائی لکشمن بندروں کی فوج کے ساتھ لنکا پر یلغار کرتے ہیں۔ وہ لنکا کے شمالی گیٹ پر حملہ کرتے ہیں جو راون کا سب سے مضبوط حصہ تھا۔
،تصویر کا کیپشنبھگوان رام اپنے بھائی لکشمن بندروں کی فوج کے ساتھ لنکا پر یلغار کرتے ہیں۔ وہ لنکا کے شمالی گیٹ پر حملہ کرتے ہیں جو راون کا سب سے مضبوط حصہ تھا۔
لکشما کو جنگ میں تیر لگ جاتا ہے۔ راون کو آخر کار شکست ہوجاتی ہے۔ اس تصویر میں ایک طرف لکشمن اپنے بھائی کے قدموں میں زخمی حالت میں پڑے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنلکشما کو جنگ میں تیر لگ جاتا ہے۔ راون کو آخر کار شکست ہوجاتی ہے۔ اس تصویر میں ایک طرف لکشمن اپنے بھائی کے قدموں میں زخمی حالت میں پڑے ہیں۔
راون کی فوج اس کے بھائی کمبھ کرن کو جگانے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ وہ جنگ میں شریک ہو سکے۔ کمبھ کرن کے لیے خوارک کا ڈھیر لگایا جاتا ہے لیکن اس کو یہ بد دعا تھی کہ وہ اپنی زندگی کا بڑا حصہ سو کر گزارے۔
،تصویر کا کیپشنراون کی فوج اس کے بھائی کمبھ کرن کو جگانے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ وہ جنگ میں شریک ہو سکے۔ کمبھ کرن کے لیے خوارک کا ڈھیر لگایا جاتا ہے لیکن اس کو یہ بد دعا تھی کہ وہ اپنی زندگی کا بڑا حصہ سو کر گزارے۔
بھگوان رام فاتح کے طور پر دریائےسریو کے کنارے پہنچتے ہیں۔ وہ دریا کے پانی میں قدم رکھتے ہیں اور وہاں سے اپنے بھائی سوگریو، بندروں کی فوج اور دیگر جانوروں کے ساتھ سؤرگ پر اٹھا لیے جاتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبھگوان رام فاتح کے طور پر دریائےسریو کے کنارے پہنچتے ہیں۔ وہ دریا کے پانی میں قدم رکھتے ہیں اور وہاں سے اپنے بھائی سوگریو، بندروں کی فوج اور دیگر جانوروں کے ساتھ سؤرگ پر اٹھا لیے جاتے ہیں۔