،تصویر کا کیپشنسکاٹ لینڈ کے شہر ایڈنبرا میں جمعے سے شروع ہونے والی ’میمتھ آف دی آئس ایج‘ یا برفانی دور کے ہاتھیوں کے بارے میں نمائش شروع ہوئی جو 20 اپریل تک جاری رہے گی۔ اس نمائش کو شکاگو کے فیلڈ میوزیم نے تیار کیا ہے اور اس کے ذریعے پہلی مرتبہ برفانی دور کی اہم چیزوں کا مجموعہ ایک ساتھ یورپ میں پیش کیا جائے گا۔
،تصویر کا کیپشناس نمائش میں برفانی دور کی پراسراریت کے بارے میں بتانے کی کوشش کی گئی ہے اور یہ دکھایا گیا ہے کہ اس دور میں میمتھ اور میسٹوڈون جیسے ہاتھی نما جانوروں کی زندگی کیسی ہوتی تھی۔ خاکہ: ویلیزر سمیونوسکی
،تصویر کا کیپشنہاتھیوں، میمتھ اور میسٹوڈون کا شجرۂ نسب ساڑھے پانچ کروڑ سال پیچھے افریقہ تک جاتا ہے۔ ایک امریکی میسٹوڈون کے اس ڈھانچے سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے دانت آج کے دور کے ہاتھیوں کے مقابلے میں زیادہ خم دار تھے۔ تصویر: جان وینسٹائن
،تصویر کا کیپشنمیمتھ کے مقابلے میں میسٹوڈون قد میں چھوٹے لیکن وزن میں زیادہ ہوتے تھے۔ ان کی ہڈیاں بھی نسبتاً موٹی تھیں اور دانتوں کی شکل بھی مختلف تھی۔ میسٹوڈون شمالی امریکہ میں میمتھ کے ہمراہ ہی رہا کرتے تھے اور ایسا اس لیے ممکن تھا کیوں کہ دونوں کی خوراک مختلف ہونے کی وجہ سے ان میں خوراک حاصل کرنے کے معاملے میں کوئی مقابلہ نہیں تھا۔ ایک میمتھ روزانہ تقریباً 226 کلوگرام سبزہ کھاتا تھا۔ میسٹوڈون (بائیں) کے دانت بہت نوک دار تھے اور یہ درختوں کی ڈالیاں کاٹنے کے کام آتہ تھے، جبکہ میمتھ کے دانت (دائیں) پتے اور گھاس چرنے کے کام آتے تھے۔ تصویر: جان وینسٹائن
،تصویر کا کیپشنیہ میمتھ کا دانت ہے۔ سائنس دان میمتھ کے دانتوں کے جائزے سے یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ موت کے وقت جانور کی عمر کیا تھی۔ تصویر: جان وینسٹائن
،تصویر کا کیپشنمیمتھ کا یہ بچہ 40 ہزار سال پرانا ہے اور اس کی لاش خاصی حد تک محفوظ ہے۔ اس میمتھ کی لاش 2007 میں سربیا سے تعلق رکھنے والے قطبی ہرنوں کے ایک چرواہے اور اس کے دو بیٹوں کو ملی تھی۔ بین الاقوامی سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے ’لیوبا‘ نامی اس بچے کی لاش کا تجزیہ کیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنیہ اصل لیوبا ہے لیکن اس کی ایک نقل بھی نمائش میں رکھی جائے گی۔ لیوبا کی موت پر اس کی سونڈ متاثر ہوئی تھی۔ سائنس دانوں کا اندازہ ہے یہ اس کی موت گارے میں پھنسنے کے بعد دم گھٹنے سے ہوئی تھی۔ لیوبا کے جائزے سے ہم یہ بات جان سکتے ہیں کہ میمتھ کا برتاؤ کیسا تھا، وہ کیسے دکھائی دیتے تھے اور کیا کھاتے تھے۔ تصویر: انٹرنیشنل میمتھ کمیٹی/ فرانسس لیٹریل
،تصویر کا کیپشننمائش میں ایک کولمبین میمتھ کی نقل بھی پیش کی جائے گی۔
،تصویر کا کیپشنمیمتھ اور میسٹوڈون ایسے کئی جانوروں کے ساتھ رہا کرتے تھے جو اب معدوم ہو چکے ہیں۔ اس تصویر میں سیبر ٹوتھ ٹائیگر دکھایا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشناس خاکے میں (پیچھے سے آگے) ایک کولمبین میمتھ، ایک افریقی ہاتھی اور ایک امریکی میسٹوڈون کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے ساتھ ایک چھ فٹ کا انسان بھی ہے۔ تمام میمتھ دیو قامت نہیں ہوا کرتے تھے بلکہ بونا میمتھ گھوڑے کی قد و قامت کا تھا۔ خاکہ: ویلیزر سمیونوسکی
،تصویر کا کیپشنقدیم دور کے جانوروں جیسا کہ ڈائناسور کے برعکس میسٹوڈون اور میمتھ ہزاروں سال تک انسانوں کے بیچ میں ہی رہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ میمتھ کی آخری نسل تقریباً چار ہزار سال قبل بحر منجمد شمالی میں ایک دور دراز جزیرے رینگل پر زندہ تھی۔ فرانس میں روفیگنک غار کی دیواروں پر بنائی گئی یہ پینٹنگ میمتھ کی عکاسی کرتی ہے، اور یہ تقریباً 15 سے 20 ہزار سال پرانی ہے۔
،تصویر کا کیپشنمیمتھ کے معدوم ہونے کی وجوہات میں موسمیاتی تبدیلیاں، انسانوں کی جانب سے ان کا شکار، بیماریاں یا زمین سے شہابیوں کا ٹکرانا وغیرہ شامل ہیں۔ ان خوبصورت نیزوں کو کلوِوس پوائنٹس کہتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ انہیں میمتھ اور میسٹوڈون کا شکار کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ تصویر: شارلٹ پیونی۔ بشکریہ: سینٹر آف دی سٹڈی آف فرسٹ امریکنز، ٹیکسس اے اینڈ ایم یونیورسٹی
،تصویر کا کیپشنیہ کھوپڑی ایک اون دار میمتھ کی ہے۔ نمائش میں قدیم دور کی کھوپڑیاں، ان دیو ہیکل جانوروں کے نمونے، دانت اور جبڑے رکھے جائیں گے۔