بنگلہ دیش میں مظاہرے

جماعت اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملّا کو پھانسی دینے کے حق اور مخالفت میں مظاہرے

بنگلہ دیش میں 1971 میں جنگی جرائم میں ملوث پائے جانے والے جماعت اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملا کو پھانسی دینے کے خلاف ہونے والے پرتشدد احتجاج کے دوران تین افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ گھروں اور کاروباری مراکز کو نقصان پہنچا ہے۔
،تصویر کا کیپشنبنگلہ دیش میں 1971 میں جنگی جرائم میں ملوث پائے جانے والے جماعت اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملا کو پھانسی دینے کے خلاف ہونے والے پرتشدد احتجاج کے دوران تین افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ گھروں اور کاروباری مراکز کو نقصان پہنچا ہے۔
پاکستان میں جماعت اسلامی نے اس پھانسی کے خلاف احتجاج کیا۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں جماعت اسلامی نے اس پھانسی کے خلاف احتجاج کیا۔
جماعتِ اسلامی پاکستان نے بھی اپنے ٹوئٹر پیغام میں ملک کے مخلتف شہروں میں نمازِ جمعہ کے بعد عبدالقادر ملا کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کرنے کی اپیل کی تھی۔
،تصویر کا کیپشنجماعتِ اسلامی پاکستان نے بھی اپنے ٹوئٹر پیغام میں ملک کے مخلتف شہروں میں نمازِ جمعہ کے بعد عبدالقادر ملا کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کرنے کی اپیل کی تھی۔
بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے کارکنوں کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنبنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے کارکنوں کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔
عبدالقادر ملا کو پھانسی دینے کے حق میں جمع لوگوں میں ایک خاتون نعرہ لگاتے ہوئے۔
،تصویر کا کیپشنعبدالقادر ملا کو پھانسی دینے کے حق میں جمع لوگوں میں ایک خاتون نعرہ لگاتے ہوئے۔
65 سالہ عبدالقادر ملّا کو جمعرات کے روز مقامی وقت کے مطابق رات 11 بجے پھانسی دی گئی تھی۔
،تصویر کا کیپشن65 سالہ عبدالقادر ملّا کو جمعرات کے روز مقامی وقت کے مطابق رات 11 بجے پھانسی دی گئی تھی۔
جنگی جرائم کے ٹربیونل نے رواں سال فروری میں عبد القادر ملا کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انھیں عمر قید کی سزا سنائی تھی جسے بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نےسزائے موت میں تبدیل کر دیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنجنگی جرائم کے ٹربیونل نے رواں سال فروری میں عبد القادر ملا کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انھیں عمر قید کی سزا سنائی تھی جسے بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نےسزائے موت میں تبدیل کر دیا تھا۔
عبدالقادر ملّا پر الزام تھا کہ وہ جماعت اسلامی کے تحت قائم کی گئی البدر نامی عسکری تنظیم کے رکن تھے۔ ان پر یہ الزام بھی ہے کہ جنگ کے آخری ایام میں وہ 200 سے زیادہ بنگلہ دیشی دانشوروں کے اغوا اور قتل میں ملوث تھے۔
،تصویر کا کیپشنعبدالقادر ملّا پر الزام تھا کہ وہ جماعت اسلامی کے تحت قائم کی گئی البدر نامی عسکری تنظیم کے رکن تھے۔ ان پر یہ الزام بھی ہے کہ جنگ کے آخری ایام میں وہ 200 سے زیادہ بنگلہ دیشی دانشوروں کے اغوا اور قتل میں ملوث تھے۔
65 سالہ عبدالقادر ملّا کو جمعرات کے روز مقامی وقت کے مطابق رات 11 بجے پھانسی دے گئی۔
،تصویر کا کیپشن65 سالہ عبدالقادر ملّا کو جمعرات کے روز مقامی وقت کے مطابق رات 11 بجے پھانسی دے گئی۔
رواں سال فروری میں جب عبد القادر ملّا کو جنگی جرائم کا مجرم قرار دیا گیا تھا تو جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے پورے ملک میں ہنگامے کیے تھے۔
،تصویر کا کیپشنرواں سال فروری میں جب عبد القادر ملّا کو جنگی جرائم کا مجرم قرار دیا گیا تھا تو جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے پورے ملک میں ہنگامے کیے تھے۔
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا موقف تھا کہ عبدالقادر ملّا کو سزا سنائے جانے کے پیچھے سیاسی عوامل کار فرما ہیں۔
،تصویر کا کیپشنجماعت اسلامی بنگلہ دیش کا موقف تھا کہ عبدالقادر ملّا کو سزا سنائے جانے کے پیچھے سیاسی عوامل کار فرما ہیں۔
بنگلہ دیشی حکومت نے یہ خصوصی ٹربیونل 2010 میں قائم کیا گیا تھا جس کا مقصد ان ملزمان پر مقدمہ چلانا تھا جنہوں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر اس وقت کے مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بننے کی مخالفت کی تھی۔
،تصویر کا کیپشنبنگلہ دیشی حکومت نے یہ خصوصی ٹربیونل 2010 میں قائم کیا گیا تھا جس کا مقصد ان ملزمان پر مقدمہ چلانا تھا جنہوں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر اس وقت کے مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بننے کی مخالفت کی تھی۔
جماعت اسلامی نے دھمکی دی تھی کہ اگر ان کے رہنما کو پھانسی دی گئی تو اس کے بھیانک نتائج نکلیں گے۔
،تصویر کا کیپشنجماعت اسلامی نے دھمکی دی تھی کہ اگر ان کے رہنما کو پھانسی دی گئی تو اس کے بھیانک نتائج نکلیں گے۔
عبد القادر ملّا کے بیٹے حسن جمیل نے اپنے والد سے آخری بار ملنے کے بعد میڈیا سے بات کی۔
،تصویر کا کیپشنعبد القادر ملّا کے بیٹے حسن جمیل نے اپنے والد سے آخری بار ملنے کے بعد میڈیا سے بات کی۔
بنگلہ دیش کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ 1971 میں جنگ کے دوران تین ملین افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ بعض محققین کے مطابق اس جنگ میں تین سے پانچ لاکھ کے درمیان لوگ ہلاک ہوئے تھے۔
،تصویر کا کیپشنبنگلہ دیش کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ 1971 میں جنگ کے دوران تین ملین افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ بعض محققین کے مطابق اس جنگ میں تین سے پانچ لاکھ کے درمیان لوگ ہلاک ہوئے تھے۔