پرانے زخم نئے گلاب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مجھے نہیں معلوم کہ حیدرآباد کے نزدیک گاؤں پبن شریف کی وہ خاتون ابھی حیات ہیں کہ نہیں جو رضاکارانہ طور پر جنوبی فرانس میں شاہنواز بھٹو کی تب نومولود بیٹی سسی کی بے بی سٹنگ کیلیے کانز بلائي گئي تھیں۔ یہ انیس سو اسی کی دہائي میں ضیاءالحق اور اس کے خلاف سینہ سپر پرانی پی پی پی کا زمانہ تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا چھوٹا اور جواں سال بیٹا پتہ نہیں ضیاءالحق اور ان کی آئی ایس آئی کے ایجنٹوں کے ہاتھوں جنوبی فرانس میں مارا گیا یا اس نے بھٹو فیملی میں مبینہ طور سوئیس بینکوں میں رکھی دولت پر تکرار میں خودکشی کی یا پھر ’اوور ڈوز‘ کی وجہ سے اس کی موت واقع ہوئی لیکن پاکستان اور سندھ کے اکثر عام لوگ، چاہے سیاسی کارکن اور دانشور ذوالفقار علی بھٹو کے اس ’انقللابی‘ کہلانے والے بیٹے سے بڑی محبت رکھتے تھے۔ ایک عید کے موقع پر، گڑھی خدا بخش کی عیدگاہ میں اپنے والد کے ساتھ صف پر بیٹھے خوبصورت نوجوان، شاہنواز بھٹو کی تصویر والا کارڈ عالم میں نادر و نایاب بن گیا۔ سب سے بڑے سندھی شاعر شیخ ایاز نے اس کی موت پر اس کی والدہ بیگم نصرت بھٹو سے مخاطب ہوکر نظم لکھی تھی۔ اردو میں اس نظم کا سلیس ترجمہ کچھ اس طرح ہوگا:
پھڑکتی اٹھی گم ہوگئی فرزند تیرا فرانس میں مارا گیا مثلِ والد وارا گیا میں نے چاہا تجھ سے پوچھوں پر کیسے پوچھوں کیسے پوچھوں‘ اسی شاہنواز بھٹو کی جواں سال میت لے کر جب ضیاء کے ظلموں کی ماری بینظیر بھٹو تنہا فرانس سے لاڑکانہ دفنانے پہنچی تھی تو ان کی توقع کے برعکس لاکھوں لوگوں نے غمزدہ سیاہ پوش بی بی کو پرسہ دینے کیلئے ان کا استقبال کرکے عوام پر اس کے یقین کو پھر سے زندہ کردیا تھا۔ ضیاءالحق نے بہت چاہا تھا کہ شاہنواز بھٹو کی میت اور اس کے ساتھ بینظیر بھٹو واپس وطن نہ آئیں۔ ان کا خیال تھا کہ لوگ دنگا اور فساد برپا کریں گے لیکن یہ کریڈٹ سندھ کے، اچھی عوامی شہرت رکھنے والے تب کے کمشنر لاڑکانہ محمد ہاشم میمن کو جاتا ہے جو ضیاء کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گئے تھے کہ صدمے تلے آئے ہوئے سندھی عوام صرف پر امن طور پر بینظیر بھٹو کو پرسا دینے لاڑکانہ آئيں گے۔ جن کے گھر میں ماتم ہو وہ بنک نہیں لوٹا کرتے اور نہ ہی آگ لگایا کرتے ہیں۔ بہرحال، شاہنواز بھٹو کو پاکستان اور سندھ میں ایک دیومالائی سیاسی کردار کے طور پر دیکھا گیا۔ بھٹو کا وہ نوجوان بیٹا جو اپنے باپ کے وزیراعظم ہونے کے دنوں میں بھی ستر کلفٹن یا المرتضی کے لان میں خيمہ زن ہوکر اس میں رہا کرتا تھا اور چی گویرا کٹ ہیئر سٹائل رکھتا اور فٹگ پہنا کرتا تھا۔ بہت برسوں بعد اس کے چاہنے والے اسے ’کامریڈ شاہنواز‘ کہنے لگے۔ یہ عجیب بچے تھے جو اپنے باپ کی حکومت میں مسٹر یا مس ’ٹین پرسینٹ‘ نہیں بنے۔ ضیاءالحق اور پاکستان کی ریاستی مافیا نے ایک ایک کرکے تمام بھٹوؤں کو گڑھی خدا بخش کے قبرستان میں موت کی نیند سلا دیا۔ انہوں نے بھٹو خواتین کو بھی نہیں بخشا۔ یہ جو اب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اعتراف کے بعد اب ردِ اعتراف میں بھی بیان آ رہے ہيں کہ وہ نیوکلیائي پھیلاؤ کے گورکھ دھندے میں تنہا نہیں تھے بلکہ فوج بھی ان کے ساتھ تھی تو اب سمجھ میں آتا ہے کہ بینظیر بھٹو کیوں قتل کردی گئیں! گڑھی خدا بخش کے قبرستان میں چار قبریں اور دبئی میں ایک زندہ لاش بیگم بھٹو پاکستان پیپلز پارٹی کو ایک نئی پارٹی میں تبدیل کرتے ہیں جس کے ورثاء بھٹو یا ان کے پرانے ساتھی اور پارٹی کے لوگ نہیں بلکہ آصف علی زرداری ہیں جو کہتے ہیں کہ گڑھی خدا بخش میں چار قبریں پاکستان میں وزیراعظم اور صدر کا انتخاب کرتی ہیں۔ انہی چار قبروں کو چومنے اور ان کی مٹی چاٹنے کیلیے امریکہ سے جب سندھ کے محبوب نوجوان شاہنواز بھٹو کی بیٹی سسی بھٹو ’نجی دورے‘ پر آئی ہیں تو لوگوں کے زخم پھر سے تازہ گلابوں کی طرح کھِل اُٹھے ہیں۔ سندھی میں کہتے ہیں ’پیار، بدلہ اور تعزیتیں‘ پرانی نہیں ہوتیں۔ لوگ سسی کو ان کے جواں مرگ والد کی چوتھائي صدی پرانی موت کی تعزتیں دے رہے ہیں۔ سندھ ایک عجبیب عزا خانہ ہے۔ ابھی کل پرسوں ایک سندھی ٹی وی چینل نے اپنے سامعین کیلیے لائيو ’سیلیبریٹ لائف‘ پروگرام کیا تھا جس کا اختتام فنکار احمد مغل کی اس نوحہ نما نظم پر ہوا جو بینظیر بھٹو کے قتل پر لکھی گئی تھی: ’سندھ جی نیانی نیانی نمانی‘ وہی ہزاروں سامعین جو اس سے قبل شمن علی میرالی کے نغموں پر رقص کررہے تھے۔ وہی مرد اور خواتین احمد مغل کے اس گیت پر ماتم کناں تھے۔ لیکن یہ جو نئی پاکستان پیپلزپارٹی کا پُنوں ہے وہ جس راستے پر پاکستان پیپلزپارٹی کو لیے نکلا ہے اس کے لیے کچھ روز قبل مجھے ضیاء کے دور میں شاہی قلعے میں قید رہنے والا ایک سابق جیالا کہہ رہا تھا ’وہ پارٹی جو ضیاء اور مشرف تیس سالوں میں تباہ نہ کرسکے وہ آصف علی زرداری پانچ ماہ میں تباہ کر چکے ہیں‘۔ مخدوم امین فہیم، جنہیں کبھی پی پی پی کا کور کمانڈر یا کور کمانڈروں کی پی پی پی رہنما کہا جاتا تھا نے بھی حال ہی میں کہا ہے ’یہ نئي پاکستان پیپلز پارٹی ہے جس سے میرا کوئی تعلق نہیں‘۔ صفدر عباسی اور ناہید خان کیا ہوئے۔ کہتے ہیں ناہید خان بینظیر بھٹو کی زندگی کے ہی دنوں میں قومی اسبملی کا ٹکٹ حسین حقانی کی اہلیہ کو دینے پر ناراض ہوکر ان کی ’گڈ بکس‘ سے نکل گئی تھیں۔ ناہید خان کی بہن حسین حقانی کی سابق زوجہ ہیں۔ اب پاکستان پیپلزپارٹی کے پرانے پی پی پی کارکن اور رہنما صحافیوں اور ایک دوسرے سے متعجب پوچھتے ہیں کہ: یہ رحمان ملک اور شیری رحمان کون ہیں؟ پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت کو سو دن ہوچکے آصف زرداری دن میں سو بار اپنے وعدے اور بیانوں سے مکر گئے۔ کامریڈ آصف علی زرداری (ذوالفقار علی بھٹو کی طرح، ایتھینز، یونان میں سوشلسٹ انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کے بعد تو آصف زرداری کو بھی کامریڈ ہی کہا جائے) کی حکومت کی کارگردگی سو دن میں یہ ہے کہ ٹھٹہ میں ایک کسان جوڑے نے غربت سے تنگ آ کر خودکشی کرلی ہے۔ یہی حال پاکستان میں اکثریت کا ہے۔ غربت جس میں بینظیربھٹو، زرداری اور نواز شریف کے علاوہ پاک فوج، قدیر خان اور اس بزنس کمیونٹی کی بھی بڑی حصہ، کردار یا کنٹری بیوشنز ہے، جس کے ’بڑے کھانے‘ کے اجتماع سے کچھ روز قبل جنرل مشرف نے خطاب کیا، جسے سن کر لگا کہ رسی جلی ہو کہ نہ جلی ہو لیکن اسکا بل یقیناً ابھی نہیں گیا۔ کراچی کی بزنس کمیونٹی، جو پاکستان پیپلزپارٹی کے اقتدار کے خلاف بڑے بڑے اخبارات میں پورے پورے صفحات کے اشہتار دیتی ہے اور جب پی پی پی اقتدار میں نہیں ہوتی تو لسانی تنظیموں اور سیاسی و جرائم پیشہ گروہوں کو بھتہ دیتی ہے۔ اس دفعہ اس بزنس کمیونٹی نے ریٹائرڈ جنرل، ڈکٹیٹر، صدر پرویز مشرف کو عشائیہ دے دیا۔ ان کے اس عشايے کی تقریر پر میرے ایک دوست نے کہا ’یہ مشرف نہیں زرداری بول رہے ہیں‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||