نجیب محفوظ: نوبل انعام میں تیس سال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرق و مغرب کا اتصال تصور کیئے جانے والے عربی کے پہلے نوبل انعام یافتہ ادیب نجیب محفوظ اب انسانوں کی رسائی سے محفوظ ہو گئے ہیں۔ نجیب محفوظ نے سترہ سال کی عمر میں لکھنا شروع کیا لیکن جب ان کی پہلی تصنیف شائع ہوئی تو اس وقت ان کی عمر اڑتیس سال تھی۔ انہیں 1988 میں نوبل انعام کے لیئے منتخب کیا گیا۔ اس موقع پر دیئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ’مجھے یہ تو یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن عربی کے کسی ادیب کو نوبل انعام ضرور دیا جائے لیکن مجھے دیا جائے گا، اس کا میں نے سوچا بھی نہیں تھا‘۔ اس بات کا یقین نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ انہیں جب نوبل انعام دیا گیا تو اس کام پر دیا گیا جو تیس سال قبل شائع ہوا تھا۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ جو لوگ نوبل انعام کا فیصلہ کرتے ہیں انہیں بھی نجیب نحفوظ کے کام کی اہمیت سمجھنے میں تیس سال لگ گئے۔ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ وقت کام کی اہمیت سمجھنے میں لگا یا کوئی اور تقاضا تھاجس کی وجہ سے اس فیصلے کو اور ٹالنا ناممکن ہو گیا تھا؟ 50 کی دہائی میں وہ معروف ادیب بن چکے تھے اور اسی دہائی میں ان کے تین ناولوں پر مشتمل معروف ’قاہرہ ٹرائلوجی‘ شائع ہوئی۔ اس کا پہلا حصہ: ’محل تا محل - 1956، دوسرا حصہ قصرِ شوق - 1957، او تیسرا حصہ کوچۂ شیریں – 1959 پر مشتمل ہے۔
اس ناول کی اشاعت کے بعد انہوں نے پانچ سال تک کچھ نہیں لکھا اور جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا ’اب وہ دنیا ہی ختم ہو چکی ہے جسے میں لکھتا تھا‘۔ اسے انقلاب مخالفت بھی تصور کیا گیا۔ لیکن شاید ایسا نہیں تھا کیونکہ جب الاہرام میں ان کا ناول ’جبلاوی کے بیٹے‘ شائع کرنا شروع کیا تو شدید تنازعات پیدا ہو گئے اور یہ تنازعات مذہبی نوعیت کے تھے جن میں انہیں ’مذہب کا گستاخ‘ بھی قرار دیا گیا۔یہ سلسلہ اس حد تک بڑھا کہ معاملہ اس ناول کی اشاعت روکنے تک آ گیا جس کے بعد اخبار کے ایڈیٹر نے کرنل ناصر سے، جو اس وقت تک صدر جمال ناصر بن چکے تھے سے مدد لی اور اس طرح اس ناول کی اشاعت مکمل ہو سکی۔ یہ ناول اتنا متنازع تھا کہ اس کی اشاعت مکمل ہونے کے بعد بھی کوئی پبلشر اسے مصر میں شائع کرنے پر تیار نہ ہوا۔ جس کے بعد یہ ناول پہلی بار لبنان سے شائع ہوا۔ یہ اسی لبنان کی بات ہے جسے اب ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو قدیم زمانے سے حسن و تخلیق کا مرکز رہا ہے جہاں ہمارے عہد میں محمود درویش نے اپنی عظیم شاعری کا ایک بڑا حصہ تخلیق کیا اور اپنی بے پناہ ’بھولنے کی یاد داشت‘ لکھی اور جہاں ہمارے فیض احمد فیض انگریزی اور عربی میں شائع ہونے والے جریدے ’لوٹس‘ کے ایڈیٹر رہے۔ نجیب محفوظ نے فلسفے کی تعلیم حاصل کی تھی لیکن انہوں نے غیر تدریسی ملازمتوں کو ترجیح دی۔ مذہبی امور کی وزارت میں بھی رہے اور آرٹ کی سنسر شپ کے شعبے کے ڈائریکٹر بھی۔ وہ اپنے اسلوب میں رمزیت اور تہہ داری کی ایک منفرد مثال تھے اور اسی بنا پر کچھ لوگ انہیں انیسویں صدی کے صاحبِ اسلوب مصنفین میں شمار کرتے ہیں لیکن نجیب نجیب ایسے حقیت پسند نہیں ہیں کہ ہم انہیں گبرئیل گارشیا مارکیز یا میلان کنڈیرہ جیسا حقیقت نگار قرار دے سکیں۔ ہمارے ہاں کچھ لوگ ان کا موازنہ پریم چند سے بھی کرتے ہیں جو محض اس بنا پر ہو سکتا ہے کہ ان کے موضوعات میں بھی افلاس کی مخالفت شامل ہے۔
ان کے ہاں مصر اور مصری دونوں کی ایسی جیتی جاگتی تصویر دکھائی دیتی ہے کہ دیکھنے والا حیران رہ جاتا ہے۔ اصل میں یہی نجیب محفوظ کی حقیقت نگاری ہے۔ وہ جس چیز کو بیان کرتے ہیں اسے روز کا دیکھنے والا بھی بھی اپنے آپ سے یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے ’میں نے یوں کیوں محسوس نہیں کیا‘۔ انہوں نے کم از کم پچاس کے قریب ناول لکھے اور سینکڑوں کہانیاں۔ اس کے علاوہ دو سو سے زیادہ مضامین لکھے ہیں لیکن ان ناولوں اور مضامین کی تفصیل کے لیئے ایک الگ دفتر درکار ہے۔ کچھ سال پہلے ان کی ایک کلیات پانچ جلدوں میں شائع ہوئی ہے جو تین ہزار صفحات پر مشتمل ہے اور یہ ان کا نصف کام بھی نہیں ہے۔ | اسی بارے میں نجیب محفوظ سے ایک ملاقات30 August, 2006 | فن فنکار عرب مصنف نجیب محفوظ چل بسے30 August, 2006 | آس پاس نجیب: بیمار مگر محفوظ12.01.2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||