جدید صحافتی انگریزی اردو اصطلاحات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’تحریر کی دنیا میں سرقہ تو وہ ہوتا ہے کہ کسی اور مصنف کا کام اپنے نام سے پیش کیا جائے۔ لیکن چار پانچ مصنفین کا کام مدون کردیا جائے تو اسے تحقیق کہتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ کہا جائے کہ جدید اردو انگریزی صحافتی اصطلاحات چار پانچ سرقوں کا مجموعہ یا تحقیق ہے تو غلط نہیں ہوگا‘۔ یہ تھی وہ تعریف جو یہاں بی بی سی کے لندن میں واقع دفتر میں راشد اشرف کی ترتیب دی ہوئی لغت ’جدید اردو انگریزی صحافتی اصطلاحات‘ کی تقریب رونمائی میں کتاب کے لیے خود راشد اشرف نے پیش کی۔ یہ تقریب جمعرات کی شام منعقد ہوئی۔ اس کتاب کی تقریب رونمائی میں راشد اشرف کے ساتھ کام کرنے والے بی بی سی اردو سروس کے عملے کے تمام افراد کے ساتھ ساتھ ان کے ہم عصر ادیب اور نقاد، جن میں وقار احمد، رضا علی عابدی، یاور عباس اور ضیاءالدین شکیب وغیرہ شامل تھے۔ ان کے علاوہ کتاب شائع کرنے والے ادارے پاکستان کے ’مقتدرہ قومی زبان‘ کے صدر نشین پروفیسر فتح محمد ملک بھی موجود تھے۔
راشد اشرف کے مطابق صحافت میں تحقیق کی اہمیت بنیادی ہے اور ساتھ ساتھ مفہوم اور ترجمے کی موجودگی ابلاغ کے عمل کو بامعنی اور موثر بناتی ہے، اس لحاظ سے انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی لغت سے صحافت کے میدان میں سرگرم افراد کو مناسب رہنمائی مل سکے گی۔ مقتدرہ قومی زبان کے سربراہ اور معروف ادیب، ماہر تعلیم اور نقاد پروفیسر فتح محمد ملک نے کہا کہ ان کے ادارے کو اس بات پر فخر ہے کہ جدید صحافت کی اس انتہائی مفید لغت کی اشاعت میں اس کا تعاون بھی شامل ہے کیونکہ ابھی تک صحافتی میدان میں اس نوعیت کی اور کوئی کتاب موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ لغت نہ صرف مختلف الفاظ، اصطلاحات اور محاوروں اور ضرب الامثال کے معانی اور مفاہیم و مطالب بیان کرتی ہے، بلکہ یہ سیاسی اور مروج خیالات اور افکار کی تشہیر بھی پیش کرتی ہے جس سے اس لغت کی قدرو منزلت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ پروفیسر فتح محمد ملک نے بی بی سی اردو سروس کی بھی تعریف کی کہ اس کی بدولت اردو بطور زبان ایسے ایسے مقامات تک پہنچی ہے جہاں تک کسی اور استاد یا ذریعۂ ابلاغ کی پہنچ ممکن نہیں ہے۔
ماہر تعلیم اور ادیب و نقاد پروفیسر ضیاء الدین شکیب نے کہا کہ الفاظ کے معانی بدلتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے یہ بات ضروری ہے کہ اس لغت کے ہر کچھ برسوں بعد اضافہ شدہ نئے ایڈیشن شائع کیے جائیں۔ انہوں نے کتاب کی اس پہلو کی بھی ستائش کی کہ اس میں نہ صرف الفاظ کے معانی اور مفاہیم دیے گئے ہیں بلکہ مختلف استعمالات کے ذریعے بھی ان کو واضح کیا گیا ہے۔ کتاب پر اپنے تنقیدی خطاب میں اردو سروس کے معروف براڈکاسٹر وقار احمد نے کہا کہ کتاب یوں لغت نویسی میں ایک اہم سنگ میل ہے کہ اب تک یہ صحافتی اردو کے لیے یہ پہلی لغت ہے جس میں سلیس اور رواں ترجمہ اس انداز میں کیا گیا ہے جو ترجمے سے زیادہ ترجمانی کے زمرے میں آتا ہے۔ وقار احمد نے کتاب میں دیے گئے محاوروں کے ترجمے کی خصوصی تعریف۔ انہوں نے ہر کچھ سال بعد اس کتاب کے نئے اضافہ شدہ ایڈیشن شائع کرنے پر زور دیا۔ | اسی بارے میں ڈاکٹر فیلن کی ڈکشنری24 January, 2006 | Learning English زبان کی نازک باریکیاں29 November, 2005 | قلم اور کالم اردو زبان میں نئے الفاظ کی ضرورت؟15 June, 2005 | Debate | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||