BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 July, 2006, 05:58 GMT 10:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وہ آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں‘

احمد ندیم قاسمی
’ہم انہیں پڑھ کر اپنے بپھرے جذبات کو تسکین پہنچاتے تھے‘
جناب مصدق سانول نے اپنے بلاگ میں احمد ندیم قاسمی کے انتقال پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ وہ ضیاءالحق کے دور میں ندیم صاحب کے رویے سے خوش نہیں تھے اور اس دور کے ان نوجوانوں میں شامل تھے جو ندیم صاحب سے محض اس بنیاد پر ناراض ہوگئے تھے۔

میں شاعری ، ادب اور موسیقی سے صرف اس حد تک واقف ہوں کہ اگر کوئی چیز سمجھ میں آگئی تو اچھی ہے اور نہیں آئی تو بری ہے یا بیکار ہے، کم از کم میرے لیئے۔

ندیم صاحب سے مجھے یوں لگاؤ تھا کہ وہ ان ادیبوں اور شاعروں میں شامل تھے جنہیں ہم جیسے لوگ ایک زمانے میں پڑھ کر اپنے بپھرے ہوئے جذبات کو تسکین پہنچاتے تھے۔

میرے والد یوں تو علمائے دیو بند کے معتقد اور مولانا آزاد کے پرستاروں میں شامل تھے لیکن پڑھتے تھے ترقی پسندوں کو، چنانچہ ان کی’ کلیکشن‘ میں مجھے ادیب لطیف کاغالباً 1946 کا سالنامہ ملا اور یہ شاید1950 کی دہائی تھی۔ میں اس زمانے میں نویں یا دسویں جماعت کا طالب علم تھا۔یہ رسالہ دوسرے لفظوں میں اردو کے ترقی پسند ادیبوں سے میرا پہلا تعارف تھا۔اگر میرا حافظہ مجھے دھوکہ نہیں دے رہا ہے تو ندیم صاحب کی ادارت میں یہ رسالہ شائع ہوا تھا۔

اس اشاعت میں ساحرلدھیانوی کی ’مادام‘ اور فیض صاحب کی ’مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ‘ ، ندیم صاحب کی’رقاصہ‘ اور افسانہ’ہیروشیما کے بعد‘ اور کرشن چندر کی’پودے‘ جیسی تخلیقات شامل تھیں۔

آپ یقین مانیں ہم طالب علم جوصرف ظالم و مظلوم کی بنیاد پر تقسیم کے قائل تھے، اس رسالے کو پڑھتے نہیں تھے چاٹتے تھے۔

ہم سب زندگی کے طویل سفر میں کہیں نہ کہیں ٹھوکر ضرور کھاتے ہیں۔ اب ستم ظریفی یہ ہےکہ یہ ٹھوکر ہی ہماری پہچان بن جاتی ہے۔ اس طویل سفر کے اس دور کو کو ئی یاد نہیں رکھتا جس میں ہم جبری اور استحصالی قوتوں کے سامنے سینہ تان کر اور سر اونچا کر کے چلتے ہیں۔

میں نہیں جانتا کہ ندیم صاحب نے ضیاءالحق کے دور میں کیا کیا لیکن انہوں نے اس سے پہلے جو کچھ کیا وہ انہیں ہمارے جیسے لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رکھنے کے لیئےکافی ہے۔

اسی بارے میں
احمد ندیم قاسمی چل بسے
10 July, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد