کوئی شوق سے یہ زندگی نہیں جیتا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چار سال پہلے زلزلے نے جانکی کے ہنستے کھیلتے خاندان کو برباد کر دیا۔ والد کی موت کے بعد بیمار ماں اور تین چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داری چوبیس سالہ جانکی کے کاندھوں پر آگئی اور وہ گجرات کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ممبئی کی ایک ڈانس بار میں جا پہنچی۔ اب یہ ہر رات اس شراب خانے میں ہندی فلموں کے گانوں پر تھرکتی اور گاہکوں کی دلجوئی کرتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ ’ مجبوری سب کروا دیتی ہے۔ یہاں ہم اپنی کلا دکھاتے ہیں، محنت کرتے ہیں اور پیسہ کماتے ہیں۔ ہم کچھ غلط نہیں کرتے۔‘ مہاراشٹرا کی حکومت ایسا نہیں مانتی۔ اس ماہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ریاست کے سبھی پندرہ سو شراب خانوں کو بند کر دیا جائے کیونکہ ان کے خیال میں یہ نہ صرف ہندوستانی ثقافت کے خلاف اور معاشرتی برائیوں کی جڑ ہیں بلکہ ریاست کی نوجوان نسل کو خراب کر رہے ہیں۔ اس فیصلے سے ان شراب خانوں کے مالکان اور ان میں کام کرنے والوں کے علاوہ ممبئی کی جانی مانی ہستیاں بھی خاصی ناراض ہیں۔ بالی ووڈ سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی اس فیصلے کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ ہدایتکار کرن رازدان کا کہنا ہے کہ ’میں بھی ایک ہندو ہوں اور میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ یہ لوگ کس ثقافت کی بات کر رہے ہیں جس کے یہ ٹھیکیدار بن کر بیٹھے ہوئے ہیں‘۔
انہوں نے اس حکومتی فیصلے کو دوغلا پن قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح تو انہیں فلموں کی ہیروئنوں پر بھی پابندی لگانی چاہیے کیونکہ وہ لوگ بھی ناچ گا کر پیسہ کماتی ہیں اور فرق صرف اتنا ہے کہ وہ کروڑوں میں کماتی ہیں اور یہ بیچاریاں ہزاروں میں۔ ایک ڈانس بار کے مالک کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ غیر جمہوری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ ناچ گانا ہندوستانی ثقافت کا حصہ ہے۔ ان ڈانس باروں میں لڑکیاں گھاگھرا اور چولی پہن کر فلمی گانوں پر ناچتی ہیں۔ اگر حکومت کو ثقافت کا اتنا ہی خیال ہے تو پہلے ان ریمکس میوزک ویڈیوز کو بند کرے جو کہ انتہائی ولگر ہوتی ہیں اور جنہیں ٹی وی پر دیکھ کر بچے بگڑ رہے ہیں‘۔ اپنی روزی روٹی چھنتے دیکھ کر ڈانس بار میں کام کرنے والی ہزاروں رقاصاؤں نے آزاد میدان میں دھرنا دیا ہوا ہے۔ یہ رقاصائیں باری باری یہاں احتجاج کرنے آتی ہیں۔
دھرنا دیے ہوئی سنگیتا پٹیل پچھلے پندرہ برس سے ڈانس بار میں رقص کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ سب یہاں کسی نہ کسی مجبوری کی وجہ سے آتے ہیں۔ کوئی شوق سے یہ زندگی نہیں جیتا۔ ہم کسی کو نہیں بگاڑتے، کوئی غلط کام نہیں کرتے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ میرے چار بچے ہیں۔ اگر یہ کام نہیں کروں گی تو انہیں کھلاؤں گی کہاں سے؟ کیا حکومت انہیں پالے گی۔‘ تیس سالہ شبنم کا بھی یہی سوال ہے۔ ’ اگر ہم یہ کام چھوڑ دیں تو سڑک پر آ جائیں گے۔ پہلے حکومت ہمیں نوکری دے تو ہم یہ کام چھوڑ دیں گے۔‘ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ صرف ان لڑکیوں کو روزگار دے گی جو مہاراشٹر سے تعلق رکھتی ہیں اور ان لڑکیوں کی تعداد بہت کم ہے۔ بقیہ ایک لاکھ لڑکیاں کہتی ہیں کہ اب انہیں وہی کر نا پڑے گا جس کا الزام لگا کر ان شراب خانوں کو بند کیا جا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||