BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 November, 2004, 12:58 GMT 17:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان اور کیا کرے

طالبان
طالبان پاکستان سے نالاں بھی رہے۔
خیبر ایجنسی کی وادئ تیراہ میں ایک کہاوت ہے۔

’باپ کیا کرتا تھا؟‘
’گدھے خصی کرتا تھا۔‘
’فائدہ؟‘
’ہاتھ رنگے رہتے تھے۔‘

یہ حکایت مجھے کابل کے افغانوں کے پاکستان کے بارے میں خیالات جان کر یاد آئی۔

باوثوق ذرائع کے مطابق گزشتہ دنوں جب پاکستانی سفارتخانہ شہر کے مرکز وزیر اکبر خان میں کرائے کی عمارت سے کاتے پروان میں پاکستانی ملکیت والی عمارت میں منتقل کیا گیا تو وہاں کے پولیس سربراہ نے سفارتخانے کے حکام کو مشورہ دیا کہ وہ واپس چلے جائیں کیونکہ وہ عملے اور املاک کی سلامتی کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ اس علاقے میں پنجشیر کے رہنے والوں کی اکثریت آباد ہے۔

سن دو ہزار دو میں کابل میں منعقدہ ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستانی وزیرخارجہ کی قیادت میں آنے والے وفد کو کابل کی بجائے بگرام ایئرپورٹ پر اترنا پڑا جہاں سے وفد کے ارکان کو امریکی ٹینکوں میں بٹھا کر جلسہ گاہ میں لے جایا گیا۔ اجلاس کے دوران دوسرے ملکوں کے وزرائے خارجہ نے تقاریر کی جبکہ پاکستانی وزیرخارجہ چپ چاپ کرسی میں دبکے رہے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ بعض مجاہد کمانڈروں نے دھمکی دی تھی کہ اگر پاکستانی وفد نے افغانستان میں قدم رکھا تو اس کی تکا بوٹی کر دی جائے گی۔

ایک ٹیکسی ڈرائیور سے گپ شپ ہوئی۔ مختلف ادوار کے بارے میں وہ ایک رائے رکھتا تھا۔ کہنے لگا طالبان نے افغانستان کو پاکستان کا غلام بنادیا تھا۔ میں نے کہا کہ اب امریکی فوج افغانستان میں موجود ہے۔ جواب آیا کہ غلام کی غلامی سے آقا کی غلامی بہتر ہے۔

غزنی میں ایک امریکی فوجی سے بات ہوئی۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار پر کہنے لگا کہ اگرچہ جنرل مشرف دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں، مگر دل سے نہیں۔ میں نے پوچھا کہ وہ کس بنیاد پر یہ بات کر رہا ہے، کہنے لگا صاف بات ہے جب تک دہشت گرد پاکستان میں موجود ہے امریکہ مشرف کی حمایت کرتا رہے گا۔

اب اگر افغان جہاد کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو پاکستان مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے لیے روسی اشتراکیت کے خلاف فرنٹ لائن سٹیٹ رہا ہے۔ اس زمانے میں بہت سے پاکستانی دانشور کہا کرتے تھے کہ افغان، پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ پاکستان نے کھل کر مجاہدین کی حمایت کی۔ اپنے لوگوں کو تخریب کاری کا نشانہ بننے دیا (اس وقت دہشت گردی کی اصطلاح ایجاد نہیں ہوئی تھی)۔

پختون اور غیرپختون مجاہدین کو پناہ دی، ان کی مدد کی۔ ہزاروں پاکستانی مجاہدین کے شانہ بشانہ لڑے۔ جب روسی فوج چلی گئی اور مجاہدین ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے تو انہیں خانہ کعبہ لے جا کر ان سے قرآن پر حلف لیا اور مصالحت کروائی۔ یہ اور بات ہے کہ اقتدار کی ہوس، خانہ کعبہ میں اٹھائے گئے قرآنی حلف پر غالب رہی۔

دنیا جانتی ہے کہ طالبان تحریک نے خالصتاً قندھار میں جنم لیا اور وہ بھی جب ایک مجاہد کمانڈر نے زنا بالجبر کا ارتکاب کیا۔

کابل والے وہ وقت بھول گئے ہیں جب سڑک کے ایک طرف ایک مجاہد کمانڈر کی حکومت تھی اور دوسری طرف دوسرے کمانڈر کی۔ ایک داڑھی رکھنے پر دھمکاتا تھا اور دوسرے داڑھی منڈھوانے پر۔ یہ ہی کابل کے لوگ تھے جنہوں نے طالبان کا استقبال کیا تھا۔

جب طالبان نے ملک کے بیشتر حصہ پر قبضہ کر لیا تو پاکستان نے بھی طالبان حکومت تسلیم کرلی۔ اور پاکستان ہی کیا سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بھی طالبان کو تسلیم کیا تھا۔

اور تو اور اس وقت بھی بیس لاکھ سے زیادہ افغان پناہ گزیں پاکستان کی سرزمین پر نہ صرف رہ رہے ہیں بلکہ پھل پھول رہے ہیں۔

ہوسکتا ہے کہ بعض پاکستانی حکام نے مجاہدین کے نام پر آنے والی غیرملکی امداد سے کچھ ذاتی مفاد حاصل کیا ہو لیکن بحیثیت قوم پاکستان نے افغانوں کے لیے بساط بھر کیا۔

پھر بھی اگر پاکستان، افغانوں کا دل نہیں جیت سکا تو اس کا سارا کیا دھرا گدھے خصی کرنے کے مترادف نہیں تو اور کیا ہے؟!

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد