برطانیہ میں مسلمانوں کی تاریخ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بر صغیر کے دور دراز علاقوں سے ان لوگوں کی برطانیہ آمد کی کہانیاں بہت دلچسپ ہیں۔ ان میں سے ایک نتھو محمد تھے جو انیس سو انیس میں بحری جہاز پر ملازم کی حیثیت سے برطانیہ آئے تھے۔ نتھو محمد نے کچھ دیر بعد کپڑے بیچنا شروع کر دیئے۔ ان کا کاروبار چل نکلا۔ انیس سو چوبیس میں انہوں نے اپنے دو بھائیوں کو بھی برطانیہ بلا لیا اور پھر آہستہ آہستہ ان کے کچھ دوست اور رشتہ دار بھی پہنچ گئے۔ یہ سلسلے جاری رہا اور انیس سو چالیس تک نتھو محمد کے گاؤں ٹنڈو بادل خان اور اس کے گرد دس کلومیٹر کے علاقے سے چار سو کے قریب افراد برطانیہ پہنچ چکے تھے۔ نتھو محمد جیسے بہت سے لوگ زندگی میں بہتری کے لیے ولایت آئے تھے۔ ’دی انفڈل وِدِن‘ نامی کتاب ایسے ہی لاکھوں مسلمانوں کی برطانیہ میں دو سو سالہ تاریخ کا احاطہ کرتی ہے۔ یہ کتاب اسی سال شائع ہوئی ہے اور موجودہ عالمی حالات میں اس کی خاص اہمیت ہے۔ پروفیسر ہمایوں انصاری رائل ہولووے، یونیورسٹی آف لندن میں تاریخ کا مضمون پڑھاتے ہیں اور نسلی اقلیتوں کے مرکز کے منتظم ہیں۔ پروفیسر ہمایوں انصاری نے نہ صرف برطانیہ میں مسلمانوں کی آمد کی تاریخ بیان کی ہے بلکہ اسے ہر دور کے بین الاقوامی حالات کے تناظر میں رکھا ہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے برطانیہ میں ان مسلمانوں کے حالات زندگی کے ہر پہلو پر نظر ڈالی ہے جس سے ان کی موجودہ صورتحال اور مسائل کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ مسائل میں سرِ فہرست شناخت کا مسئلہ ہے۔ کتاب کا پہلا باب بھی اس موضوع کے بارے میں ہے۔ دنیا بھر سے آنے والے مسلمانوں کی وابستگی کیوں اور کس طرح اپنے اپنے ملکوں سے ہٹ کر مذہب کے ساتھ ہوئی۔ برطانیہ میں پیدا ہونے والے برطانیہ، اسلام اور اپنی نسلی شناخت میں سے کس کو اہمیت دیتے ہیں۔ اس بات کو بھی سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ امت اور برطانیہ کی پالیسیوں میں سے جب کسی ایک کو چننے کا وقت آیا تو یہاں کہ مسلمانوں کا کیا رد عمل رہا۔ اس میں برطانیہ میں پیدا ہونے والے مسلمانوں کا کیا کردار رہا، ان کے لیے اپنے والدین کے ملک کی بجائے اسلام کیوں اہم ہو گیا اور ان کا برطانوی معاشرے سے کیا رابطہ رہا؟ یہ کتاب اعداد و شمار کا ذخیرہ ہے۔ اس میں دلچسپ حقائق ملتے ہیں۔ کتاب کے مطابق برطانیہ میں پندرہ لاکھ سے زیادہ مسلمان ہیں جن میں سے ستر فیصد پچیس سال یا اس سے کم عمر کے ہیں۔ اس کتاب میں بتایا گیا کہ مسلمانوں کب کب، کیوں، کن ممالک سے اور کتنی تعداد میں اس جزیرے پر آئے۔ اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے انہوں نے کیا جدوجہد کی اور وہ کہاں تک پہنچی ہے۔ مسلمان خواتین کے لیے برطانیہ آنے کا تجربہ کیسا رہا۔ تعلیم کے میدان میں مسلمانوں کے بچے کی کیسی کارکردگی رہی؟ پنجاب کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر انصاری نے لکھا ہے کہ اٹھارہ سو اڑتالیس سے اٹھارہ سو اکیانوے تک زمینداری میں بہت کمی واقع ہوئی جس کا نتیجہ یہ تھا کہ لوگ اپنے بیوی بچوں کو پیچھے چھوڑ کر کلکتہ اور بمبئی کی طرف نکل گئے۔ یہ لوگ جتنا اپنے علاقوں سے دور جاتے اتنے ہی ان کی واپسی کے امکانات کم ہو جاتے۔ مغرب میں آج کے مسلمانوں کو ذرائع ابلاغ سے بہت شکایت ہے۔ لیکن امیج کا مسئلہ نیا نہیں ہے۔ مغرب کی سلطنت عثمانیہ سے مخالفت مسلمانوں کے بارے میں منفی رویے کی بنیاد بنی۔ کتاب میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں وکٹورین دور میں مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں وقفے وقفے سے انتہائی سخت بیانات جاری ہوتے رہتے تھے۔ برطانیہ میں مسلمانوں کے بارے میں تاثر تھا کہ یہ ’انسانوں کی غیر انسانی قسم‘ ہے۔ اس دور کے اچھے اخبارات اور جرائد مثلاً ’دی ٹائمز‘، ’دی کنٹیمپریری ریویو‘ اور ’نائنٹینتھ سنچری‘ میں سلطنت عثمانیہ کے بارے میں انتہائی سخت مضامین شائع ہوئے اور ایک مبصر نے اس کو ایسی سلطنت قرار دیا جو ’ بڑی عیسائی دشمن‘ اور ’غیر مہذب‘ ہے جس کے بنیاد قتل، زنا بالجبر اور ایک سے زیادہ شادیوں کی رسم پر ہے۔ موؤرخ کے مطابق اسلام کو تمام فسادوں کی جڑ قرار دیا گیا۔ قصہ مختصر مسلمانوں کے بارے میں برطانیہ میں اس رویے کا وقفے وقفے سے اظہار ہوتا رہا۔ پروفیسر انصاری لکھتے ہیں کہ مغرب نے ایک ایسے اسلام کی تصویر بنائی اور پھر اسے بدنام کیا جسا کا بہت سے مسلمانوں کی زندگیوں میں اظہار نہیں ہوتا۔ پروفیسر انصاری نے نارمن ڈینیل کی کتاب ’اسلام اینڈ دی ویسٹ: دی میکنگ آف این امیج‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اسلامو فوبیا‘ کا رجحان ہر دور میں رہا ہے۔ ڈینیل نے اپنی کتاب کے تعارف میں لکھا ہے کہ اسلام کے خلاف عیسایت کا رد عمل ابتدا میں بھی ایسا ہی تھا جیسا کہ آج کے دور میں اور ’یہ روایت ہمیشہ سے تھی اور اب بھی جاری ہے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||