ڈسکہ کا چسکا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئی سِٹل رِممبر اے سمال ٹاؤن اِن پنجاب (مجھے پنجاب کا ایک چھوٹا شہر ابھی تک یاد ہے) نامی کتاب او پی نارولا کی ڈسکہ میں گزری بچپن اور جوانی کی یادوں پر مبنی مختصر اور خوبصورت تحریر ہے۔ نارولا کی یادوں کا ڈسکہ اس ڈسکے سے بہت مختلف ہے جو اب لوگ دیکھتے ہیں۔ ان کا وقت ڈسکے اور قریبی گاؤں کندن سیاں میں گزرا۔ نارولا نصف صدی کے انتظار کے بعد چند برس قبل جب ڈسکہ پہنچے تو ان کی یادوں کا ڈسکہ غائب ہو چکا تھا۔ انہیں انسانوں کا ایک سمندر نظر آیا جس نے وہ سب کچھ مٹا دیا تھا جس سے ان کو پیار تھا۔ او پی نارولا تئیس سال کی عمر میں ہجرت کر کے نینی تال چلے گئے تھے، پھر وہاں سے دِلّی پہنچے اور کچھ عرصے بعد ہندوستانی فوج میں شامل ہو گئے۔ فوج سے ریٹائر ہو کر انہوں نے انجنئیرنگ کے میدان میں چند اہم کام کیے اور اس کے بعد باغبانی اور اردو اور پنجابی شاعری کے مشاغل اپنا لیے۔ اس کتاب کی سماجی اہمیت بھی ہے اور اس میں وہ درد بھی نظر آتا ہے جو ہر وہ شخص محسوس کرتا ہے جسے اس کی مرضی کے بغیر اچانک اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہو۔ یہ کتاب پنجاب کی سماجی تاریخ کا ایک چھوٹا سا باب بھی ہے۔ انیس سو سینتالیس میں پنجاب کالج آف انجنئیرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد نارولا کو حالات کے پیش نظر ڈسکہ کی بجائے نینی تال جانا پڑا جہاں ان کے خاندان کے افراد پہلے ہی پہنچ چکے تھے۔ نارولا کے والد امر چند وکیل جو ڈسکہ میں حالات میں بہتری کی امید لیے اکیلے رہ رہے تھے ایک دن شام کو اپنے ایک دوست کے گھر گئے اور وہاں سے انہیں ان کی بیٹیوں کے ساتھ ہندوستان جانا پڑا۔ حالات اتنے خراب تھے کہ وہ گھر نہ جا سکے۔ صرف تین کپڑوں دھوتی، کرتا اور ٹوپی پہنے ہوئے لڑکیوں کو لے کر ایک فوجی گاڑی میں امرتسر روانہ ہو گئے۔ نیرولا کہتے ہیں کہ وہ نینی تال میں ڈسکہ کی صورتحال سے بالکل بے خبر رہے اور اپنی بقایا زندگی اکثر خیالوں میں اپنے گاؤں پہنچتے رہے۔ وہ بھولی، مہراں، بابا ودھایا، ماہنا اور راما موٹا پکوڑے والے کو اپنے ذہن سے کبھی نہ نکال پائے۔ نیرولا کی یادوں میں علاقے کے رہن سہن اور لوگوں کی روز مرہ زندگی کی تصویر ملتی ہے۔ گاؤں کے نوجوانوں کی مصروفیات اور مشاغل اس میں شامل ہیں۔ انہوں نے ایک ایسے پنجاب کی تصویر کھینچی ہے جو وقت کی دھند میں غائب ہو چکا ہے۔ بہت سی باتیں تو ہندوؤں اور سکھوں کے جانےکے ساتھ ہی ختم ہو گئی تھیں۔ کتاب میں ایمن آباد اور ڈسکہ میں بیساکھی کے میلے کی باتیں ہیں۔ گلو شاہ کے سالانہ عرس اور ہولی کا ذکر ہے۔ گاؤں کندن سیاں کی گلیوں میں رہنے والی چڑیلوں اور ڈائنوں کا خوف اور ان سے بچنے کے طریقے بتائے گئے ہیں۔ ماہنا باغ خریدنے کے بعد ماہنا رکھوالی کے لیے وہیں ایک جھونپڑی میں رہتا تھا۔ گاؤں کے لڑکے شام کو اس کے پاس جمع ہو جاتے اور وہ انہیں ہیر رانجھا اور مرزاں صاحباں سمیت پنجاب کی مختلف لوک داستانیں گا کر سناتا تھا اور بانسری بھی خوب بجاتا تھا۔ ایک روز گاؤں میں چوری ہو گئی اور ماہنے کو صرف اس کی ذات کی وجہ سے پولیس والوں نے پورے گاؤں کی موجودگی میں بہت مارا۔ نیرولا کے بقول سب کو معلوم تھا کہ وہ بے قصور ہے لیکن کسی نے کچھ نہیں کہا۔ بھترا سکھ یہ لوگ قسمت کا حال بتاتے تھے۔ ان میں سے کچھ ہاتھ دیکھتے، کچھ ماتھا دیکھتے اور کچھ تاش کے پتوں کی مدد لیتے تھے۔ بھترا سکھوں کے آنے سے ڈسکہ میں رونق ہو جاتی تھی۔ ان میں سے کچھ سخت گرمیوں میں سکاٹ لینڈ سے خریدے گئے گرم سوٹ اور روسی ٹوپیاں پہن کر بازار میں گھومتے تھے۔ اِن کے آتے ہی ہر چیز مہنگی ہو جاتی۔ یہ لوگ چھ ماہ ڈسکہ میں رہتے اور دنیا بھر سے کمایا ہوا پیسہ لٹا کر قیمتی سامان بیچ کر ایک بار پھر مختلف بّرِاعظموں کی طرف روانہ ہو جاتے۔ اور اگر کوئی ان کے گھر کے بارے میں پوچھتا تو بڑے پیار سے بتاتے کہ ”ڈسکپوری اور گھالوٹگھر کے بیچ ایک چھمکا ندی بہندی ہے، شیر تے بکری اک گھاٹ تے پانی پیندے ہن، ہنس موتیاں دی چوغ چوغدے ہن، اوس نگری دے اسی رہن والے ہین۔” اس قبیلے کے ایک فرد نے کئی سال بعد لندن میں ماربل آرچ پر نارولا کو روک ان کے مستقبل کا حال بتانے کی کوشش کی۔ نارولا نے کچھ دیر اس کی بات سننے کے بعد اس سے پوچھا کہ وہ ڈسکہ کا رہنے والا تو نہیں۔ وہ سکھ ڈسکہ کا نام سن کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ اس کا کہنا تھا کہ گھر تو وہ پہلے بھی کم ہی رہتے تھے لیکن دِل میں ایک امید اور یاد ضرور ہوتی تھی۔ اب یہ دونوں نہیں رہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||