سفارت کاری میں الفاظ کا استعمال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سفارت کاری میں کسی تنہا لفظ کا استعمال بھی معنی خیز بن سکتا ہے اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کا یہ کہنا کہ جنگِ عراق ’غیرقانونی‘ تھی اس وقت کچھ ایسا ہی ہے۔ عنان اب تک اس لفظ کے استعمال سے گریز کرتے رہے ہیں۔ اس سے پہلے وہ یہ کہتے رہے تھے کہ جنگِ عراق کی ’اقوام متحدہ کے چارٹر سے مسابقت نہیں‘ تھی۔ یہ ایک سفارتی زبان تھی جس کا مقصد تھا ٹکراؤ سے کترانا اور اپنی بات بھی کہہ دینا۔اگرچہ یہ الفاظ توجہ کے جاذب نہیں تھے تاہم عنان ان کے استعمال سے مطمئن تھے۔ اب بی بی سی سے ایک انٹرویو میں ان سے ’غیرقانونی‘ کہلوا ہی دیا گیا تو جنگِ عراق پر ان کے موقف کی اسی لفظ سے تشریح کی جائے گی۔ انہوں نے اپنے موقف میں تبدیلی نہیں کی ہے لیکن ان کی زبان بدل گئی ہے اور یہ اہم ہے۔ یہاں اس بات کی نشاندہی ضروری ہے کہ عنان نے اس لفظ کا استعمال بھی کچھ یوں کیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے بارے میں اپنی گفتگو میں اسے ڈبو دیں تاہم ان کی اس کوشش کا کوئی نوٹس نہیں لے گا۔ سفارت کاری میں صاف گوئی پسند نہیں کی جاتی اور کوفی عنان بھی محتاط سفارت کار ہیں۔ بی بی سی کے صحافی اوین بینیٹ جونز نے، جو ان کا انٹرویو لے رہے تھے، کوفی عنان کے ہاتھ باندھ دیے بالکل ویسے ہی جیسے ایک اچھا وکیل عدالت کے کمرے میں کسی گواہ کو پھنسا دیتا ہے۔ بی بی سی کا یہ انٹرویو کچھ یوں رہا: بی بی سی: ’تو آپ کو نہیں لگتا کہ جنگ کے لئے قانونی اتھارٹی تھی؟‘ عنان: ’میں نے واضح کیا ہے، میں نے صاف کہا ہے، کہ اس کی اقوام متحدہ کے چارٹر سے مسابقت نہیں تھی۔‘ بی بی سی: ’یہ غیرقانونی تھی۔‘ عنان: ’ہاں، اگر آپ کی خواہش ہے۔‘ بی بی سی: ’یہ غیرقانونی تھی۔‘ عنان: ’ہاں، میں نے اشارہ کیا ہے کہ اس کی اقوام متحدہ کے چارٹر سے مسابقت نہیں تھی۔ ہمارے نقطۂ نظر سے، چارٹر کے نقطۂ نظر سے، یہ غیرقانونی تھی۔‘ یہ لفظ ان سے کہلوایا گیا، شاید وہ یہ کہنا نہیں چاہتے تھے لیکن ان کے لئے اس کے استعمال سے کترانا مشکل ہوگیا۔ تو کوفی عنان کیوں ایسا سوچتے ہیں کہ جنگِ عراق غیرقانونی تھی؟ انٹرویو میں عنان نے کہا کہ آٹھ نومبر دوہزار دو کو منظور کی جانیوالی قرارداد نمبر چودہ سو اکتالیس میں عراق کو ’سنگین نتائج‘ کی وارننگ دی گئی تھی اگر اس نے وسیع تباہی کے ہتھیاروں سے متعلق اقوام متحدہ کے مطالبات نہیں مانے۔ عنان کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کو یہ فیصلہ کرنا تھا کہ یہ ’سنگین نتائج‘ کیا ہونگے اور یہ دوسری قرارداد کے ذریعے ہی ہوسکتا تھا۔ جبکہ امریکہ اور برطانیہ کا کہنا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی خواہشات پر عمل کررہے تھے اور ان کی اتھارٹی صرف قرارداد نمبر چودہ سو اکتالیس ہی نہیں بلکہ اس سے پہلے کی قراردادوں پر بھی مبنی تھی۔ برطانوی اٹارنی جنرل لارڈ گولڈ سمتھ نے اس بارے میں ایک عوامی بیان بھی جاری کیا تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات نہ تو کابینہ کے اراکین کو دیں اور نہ ہی انہیں شائع کیا۔ انہوں نے کہا کہ انیس سو نوے کی قرارداد نمبر چھ سو اٹھہتر اب بھی لاگو ہوتی ہے۔ قرارداد نمبر چھ سو اٹھہتر میں کویت پر سے عراق کا قبضہ ختم کرانے کے لئے ’تمام ضروری اقدامات‘ کے استعمال کی اجازت دی گئی تھی اور خطے میں ’عالمی امن اور سکیورٹی بحال کرنے‘ کی بھی۔ لارڈ گولڈ سمتھ نے کہا کہ قرارداد چھ سو اٹھہتر کے ذریعے دی جانے والی اجازت کو انیس سو اکیانوے کی قرارداد نمبر چھ سو ستاسی کے ذریعے ریوائیو یعنی’زندہ‘ کیا گیا۔ اور چونکہ قرارداد چودہ سو اکتالیس میں کہا گیا تھا کہ عراق قرارداد چھ سو ستاسی کی خلاف ورزی کا مرتکب ہے، اس لئے طاقت کا استعمال جائز تھا۔ جنگِ عراق کے مخالفین کے لئے ’غیرقانونی‘ لفظ کا استعمال ان کے دلائل کی اطمینان بخش تصدیق کرے گا۔ جنگ کے حامی، جن میں وہ بھی شامل ہیں جوگولڈ سمتھ کی دلیل سے پوری طرح مطمئن نہیں ہیں، ’کوسووو ڈیفنس‘ پر اپنے موقف کو مبنی کرسکتے ہیں۔ انیس سو ننانوے میں کوسووو میں سربیا کے خلاف نیٹو کے جنگ کو اقوام متحدہ کی حمایت نہیں تھی، لیکن اس کے حامیوں نے شہریوں کے تحفظ کے لئے اسی اخلاقی مداخلت تصور کیا تھا۔ گزشتہ ہفتے دارفور میں ہونیوالے حالات کی تشریح کے لئے امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے لفظ ’نسل کشی‘ کا استعمال کیا۔ نسل کشی سے متعلق اقوام متحدہ کی انیس سو اڑتالیس کی کنونشن کے تحت نسل کشی کے واقعات کے انکشاف پر ان کو روکنے کے لئے اقدامات کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ سفارت کاری میں الفاظ کا نہ استعمال کیا جانا بھی معنی خیز ہے۔ مشرق وسطیٰ میں انیس سو سڑسٹھ کی جنگ کے بعد سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر دو سو بیالیس کے تحت ’حالیہ لڑائی کے دوران قبضہ کیے جانے والے علاقوں سے اسرائیلی فوج کی واپسی‘ کی بات کی گئی۔ (انگریزی زبان میں لکھی گئی اس قرارداد میں ’علاقوں‘ کا لفظ اردو قواعد کے حساب سے ’اسم خاص‘ کی طرح استعمال نہیں کیا گیا۔) (دوسرے الفاظ میں انگریزی میں) لفظ ٹیریٹریز سے پہلے دی کا استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ اسرائیل نے کچھ علاقے خالی کردیے ہیں اس لئے وہ کہہ سکتا ہے کہ اس نے اس قرارداد پر عمل کی اور اس کی خلاف ورزی کا مرتکب نہیں ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اس قرارداد کے فرانسیسی متن میں ’علاقوں‘ کا لفظ اسم خاص کی طرح استعمال کیا گیا ہے لیکن فرانسیسی متن پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||