آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بنگلور: دھڑے بندی جس سے انڈیا کی ’سیلیکون ویلی‘ تقسیم ہو رہی ہے
- مصنف, سوتک بسواس
- عہدہ, بی بی سی انڈیا
انڈیا میں بایئو ٹیکنالوجی کی ایک مشہور فرم ’بایوکون‘ کی سربراہ کرن مجمدار شا نے کچھ ماہ قبل بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت پر زور دیا کہ وہ چھ کروڑ چالیس لاکھ آبادی کی جنوبی ریاست کرناٹک میں ’بڑھتی ہوئی مذہبی تقسیم (کے مسئلے) کو حل کرے۔‘
کرن شاہ کا کاروبار کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور میں ہے، جو انڈیا کا تیزی سے ترقی کرنے والا انفارمیشن ٹیکنالوجی کا مرکز ہے۔
ان کا یہ بیان ریاست میں بنیاد پرست ہندو گروپوں کی طرف سے مندر کے میلوں میں مسلمان تاجروں کو سٹال لگانے پر پابندی لگانے کے مطالبات پر تنازعے کے تناظر میں سامنے آیا۔
یہ گروہ ہندوؤں پر بھی زور دیتے رہے ہیں کہ وہ مسلمان قصابوں سے گوشت نہ خریدیں جو کمیونٹی کے ذبیحہ کے تقاضوں کے تحت جانور کو ذبح کرتے ہیں (جانور کا گلا تیز دھار چاقو سے کاٹا جاتا ہے جب وہ ہوش میں ہوتا ہے)۔ اب یہ گروہ مساجد میں لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی اور مسلمان آم بیچنے والوں کے بائیکاٹ کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔
سب کچھ یہیں ختم نہیں ہو جاتا۔ پچھلے مہینوں میں ریاست کرناٹک میں حجاب پہننے والی مسلم لڑکیوں کے کالجوں میں داخلے پر پابندی کے حکومتی حکم کی وجہ سے حالات کشیدہ ہوئے۔
پچھلے سال حکومت نے ایک ایسی ریاست میں گائے کے ذبیحہ اور تجارت پر پابندی لگا دی تھی جہاں تقریباً 13 فیصد لوگ مسلمان ہیں۔
سکول کے نصاب میں ہندوؤں کی مقدس کتاب بھگواد گیتا کو شامل کرنے کا منصوبہ ہے اور میسور کے 18ویں صدی کے مسلم حکمران ٹیپو سلطان کے باب کو ہٹانے کی تجویز ہے کیونکہ یہ باب ٹیپو سلطان کی شان کو بڑھاتا ہے۔
ان میں سے بہت سے اقدامات نے عوامی رائے عامہ کو تقسیم کیا ہے۔ ناقدین انھیں وزیراعظم نریندر مودی کی قوم پرست حکومت کی طرف سے مسلمانوں کو پسماندہ کرنے کی کوششوں کے طور پر دیکھتے ہیں لیکن بہت سے لوگوں کا خدشہ ہے کہ ان کوششوں کا الٹا اثر بھی ہو سکتا ہے اور انڈیا کی نسبتاً خوشحال ریاستوں میں سے ایک کی ساکھ کو خراب کر سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کرناٹک کی اقتصادی کامیابی بنگلور کی وجہ سے ہے۔ ریاست کی 60 فیصد سے زیادہ آمدنی تقریباً ایک کروڑ آبادی کے اس رواں دواں شہر سے حاصل ہوتی ہے۔ اس جگہ 13,000 سے زیادہ ٹیکنالوجی ’سٹارٹ اپس‘ کے دفاتر ہیں۔
بنگلور کی بدولت یہ ریاست انڈیا کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات کا 41 فیصد سوفٹ ویئر برآمد کرتی ہے۔
اس کے باوجود بنگلور اور کرناٹک ایک منقسم جگہ رہی ہے اور ماضی میں مذہبی تشدد کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔
شہر کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ایڈوانسڈ سٹڈیز میں معاشیات کے پروفیسر نریندر پانی نے کہا کہ انفارمیشن ٹیک انڈسٹری نے بنگلور کے ’اندرونی تنازعات‘ کو نظرانداز کرتے ہوئے خود کو مضافات میں رکھ کر، اپنا بنیادی ڈھانچہ بنا کر اور شہر کی ساکھ کو منظم کیا ہوا ہے۔
جنوبی انڈیا میں بی جے پی کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے مودی کا اب زیادہ زور کرناٹک پر ہے۔ یہ صرف پانچ جنوبی ریاستوں میں سے ایک ریاست ہے جہاں بی جے پی نے اقتدار حاصل کیا۔ ذاتوں، لسانی گروہوں اور مذاہب کی آمیزش والی ریاست میں بی جے پی نے لگاتار چار عام انتخابات میں پارلیمانی نشستوں کی اکثریت حاصل کی ہے۔
برسوں سے ریاست کے ساحلی علاقوں اور دیہاتوں میں جہاں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد رہتی ہے، بی جے پی نے سخت ہندو قوم پرستی کی سیاست کرتی آرہی ہے۔ آر ایس ایس، بی جے پی کے نظریاتی حصے نے یہاں گہرا اثرو رسوخ قائم کیا ہوا ہے۔
ماضی میں ہندو گروہوں نے شراب خانوں میں نوجوان مردوں اور عورتوں پر حملہ کر کے اخلاقی پولیسنگ مسلط کرنے کی کوشش کی اور ’لو جہاد‘ کے خلاف مہم چلائی۔ ’لو جہاد‘ اصطلاح بنیاد پرست ہندو گروہوں نے بنائی ہے جس کے مطابق الزام لگایا جاتا ہے کہ مسلمان مرد ہندو عورتوں کو شادی کے ذریعے مذہب تبدیل کروانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
طویل عرصے سے کرناٹک میں انتخابی سیاست کا تعین بنیادی طور پر ذات پات کی بنیاد پر ہوتا تھا۔ بی ایس یدیورپا، جنھوں نے سنہ 2008 میں بی جے پی کو اپنی پہلی جیت دلائی تھی، نے لنگایتوں کا ایک کامیاب اتحاد بنایا - یہ پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والی ایک ذات ہے اور ریاست کے ووٹروں کا تقریباً چھٹا حصہ ہے لیکن لنگایت کا ایک دھڑا چاہتا ہے کہ خود کو ہندو مذہب سے الگ عقیدہ سمجھا جائے اور پسماندہ ذاتوں میں یہ مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے کہ ان کی بہتری کے لیے زیادہ سے زیادہ اقدامات کیے جائیں۔
سوگتا سری نواساراجو، ایچ ڈی دیوے گوڈا کے سوانح نگار نے کہا کہ ’دباؤ کی وجہ سے بی جے پی اب ایک مختلف سیاست بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ ہندو قوم پرستی اور ترقی پر مبنی ووٹر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔‘ دیوے گوڈا کرناٹک سے تعلق رکھنے والے واحد انڈین وزیراعظم ہیں۔
مسٹر بومائی، ایک نسبتاً کم معروف 61 سال کے سیاستدان نے گزشتہ سال بی ایس یدیورپا سے اپنی پارٹی کی قیادت حاصل کی تھی۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کی کارکردگی غیر تسلی بخش رہی ہے۔ وبائی مرض کی بدانتظامی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ مقامی خبروں پر مبنی اور تحقیقاتی ویب سائٹ ’دی فائل‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایک داخلی جائزے سے پتا چلا ہے کہ حکومت کے نصف محکمے ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
کرپشن بھی ترقی کے راستے میں ایک رکاوٹ ہے۔ گزشتہ نومبر میں ایک حیران کن اقدام میں ریاست کے نجی ٹھیکیداروں نے وزیر اعظم مودی کو خط لکھا جس میں شکایت کی گئی کہ انھیں وزیروں اور عہدیداروں کو بطور ہر پراجیکٹ کی کل لاگت کا 40 فیصد حصہ تک رشوت میں دینا پڑتی ہے۔
ترقیاتی رقم خرچ نہ ہونے، ٹرانسپورٹ ورکرز کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور پسماندہ افراد کو وظائف میں تاخیر کی اطلاعات ہیں۔ ریاستی انتخابات اگلے سال ہونے والے ہیں۔
بنگلور میں قائم انسٹیٹیوٹ فار سوشل اینڈ اکنامک چینج میں سماجیات کے پروفیسر چندن گوڈا نے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ ہندو قوم پرستی واحد کارڈ ہے جو حکومت کھیل سکتی ہے۔ ان کے پاس اپنی حکومت کی زیادہ بڑی کامیابیاں دکھانے کے لیے نہیں۔‘
کرن شاہ کے بیان کے ایک دن بعد مسٹر بومائی نے لوگوں سے ’امن و امان برقرار رکھنے میں تعاون‘ کرنے کی اپیل کی۔ انھوں نے کہا کہ ’کرناٹک امن اور ترقی کے لیے جانا جاتا ہے اور ہر کسی کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔‘
مسٹر بومائی کی پارٹی کے اندر کچھ ردعمل سامنے آیا۔ کم از کم دو بی جے پی ارکانِ اسمبلی نے اپنے الفاظ کی سختی میں کوئی کمی نہیں کی۔
اے ایچ وشواناتھ نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ہندو مندروں کے تہواروں پر مسلمان تاجروں پر پابندی لگانا ’اچھوت پن کے سوا کچھ نہیں۔ یہ ایک غیر انسانی عمل ہے۔
انیل بینکے نے کہا کہ ’ہم مسلمانوں کو مندر کے تہواروں میں کاروبار کرنے سے نہیں روکیں گے۔‘
یکجہتی کے اظہار میں ہندوؤں نے بھی گوشت خریدنے کے لیے مسلمانوں کی قصاب کی دکانوں کے باہر قطاریں لگا دی ہیں۔ یہ سب کچھ امید افزا ہے لیکن اس کے علاوہ بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
سری نواساراجو کہتے ہیں کہ ’کرناٹک کی سیاست کو مذہبی رنگ دینے کے لیے دو دہائیوں سے مسلسل کوششیں کی گئی ہیں۔ گزشتہ برسوں سے اپوزیشن پارٹیاں، زیادہ تر دانشور اور کاروباری حضرات خاموش رہے ہیں یا وہ اپنے ردعمل میں محتاط رہے ہیں۔ انھیں اپنی رائے میں ایک جھوٹے توازن دکھانے کی کوشش کے بجائے، دلیری سے بولنے کی ضرورت ہے۔‘