آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
وہ بچی جسے جرمن نازیوں نے آریاؤں کی ایک نام نہاد ’اصیل نسل‘ تیار کرنے کے لیے اغوا کیا تھا
- مصنف, بی بی سی آؤٹ لُک
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
'انگرِڈ اوئل ہافن' نے نہ صرف اس حقیقت کو دریافت کرنے میں کئی دہائیاں صرف کیں کہ وہ کون ہیں، بلکہ یہ بھی کہ وہ نازی سماجی تجربے کا نشانہ بنی تھیں اور ان کی زندگی دراصل کچھ اور ہونی چاہیے تھی۔
جب انگرِڈ تین سال کی تھیں اور جرمنی کو دوسری جنگ عظیم کے بعد کی افراتفری کا سامنا تھا، ان کے والدین الگ ہو گئے اور وہ بچوں کے ایک مخصوص مرکز میں پہنچ گئی۔
’یہ کرسمس کا دن تھا۔ جس دن میں پہنچی اور ایک بڑے ہال میں لکڑی کی بہت سی میزوں کے ساتھ وہ تحائف دے رہے تھے۔ وہاں اخروٹ کی گری والے کیک اور اورنج کیک تھے۔ ان چیزوں نے مجھ پر گہرا اثر ڈالا تھا اسی لیے میں ایہ سب مجپے آج بھی واضح طور پر یاد ہیں۔‘
لیکن وہ خوشگوار لمحہ آنے والے ایک تکلیف دہ سلسلے کا پیش خیمہ تھا۔
اگرچہ ان کی ماں 'زیادہ گرمجوش نہیں تھی'، لیکن انگرڈ ان کے ساتھ رہنے کے لیے بے چین تھی، جیسا کہ اس کے خطوط سے پتہ چلتا ہے۔
جب انگرڈ 11 برس کی تھیں تو اس کے والد اس کی زندگی میں دوبارہ ظاہر ہوئے۔ ایک دن وہ اسے میڈیکل چیکل اپ کے لیے ڈاکٹر کے پاس لے گئے جہاں انپیں حیرت ہوئی کہ انھیں 'ایریکا ماٹکو' کہا گیا۔
'میں نہیں جانتی تھی کہ یہ ایریکا ماٹکو کون تھی، لیکن اس بارے کوئی سوال نہیں کیا۔‘
انھیں جلد ہی احساس ہونے لگا کہ یہ وہی نام ہے جو ان کی تمام سرکاری دستاویزات پر ظاہر ہوا ہے۔ انھوں نے اپنے والد سے اس بارے میں بات کرنے کی ہمت نہیں کی، لیکن اپنی نوکرانی سے بات کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
'اس نے مجھے بتایا کہ میں اپنے والدین کی حقیقی (حیاتیاتی) بیٹی نہیں ہوں، اور یہ کہ واقعی کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کہاں کی ہے۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ جو کہہ رہی ہے وہ سچ ہو۔'
اس کے بعد 13 برس کی عمر میں انگرڈ کی سب سے بڑی خواہش پوری ہوئی۔ وہ آخر کار اپنی ماں کے ساتھ رہنے کے لیے ہیمبرگ چلی گئی جنھوں نے ایک اور شخص کے ساتھ اپنا رشتہ بنا لیا تھا اور ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہو چکا تھا۔
'میں بہت خوش تھی، لیکن جب میں وہاں منتقل ہوئی تو میں نے محسوس کیا کہ مجھے اپنی ماں کے بارے میں جو خیال تھا وہ محض ایک وہم تھا۔'
انگرڈ نے کبھی ایریکا ماٹکو کے نام کا ذکر نہیں کیا یا اس حقیقت کا ذکر نہیں کیا کہ ان کی ماں ان کی حقیقی (حیاتیاتی) ماں نہیں تھی، لیکن ایک سال بعد اسے کسی ایسی چیز کا سامنا کرنا پڑا جس نے ان کی حیرت میں مزید اضافہ کیا۔
'مجھے یاد ہے کہ میں سڑک کے ایک کونے پر کھڑی تھی اور وہاں ریڈ کراس تنظیم کے بہت سے پوسٹر تھے جن میں بچوں کی تصویریں تھیں اور میں نے اپنا چہرہ دیکھا۔ میں دنگ رہ گئی۔ میرا جسم بے حس ہو گیا۔'
'تصاویر جنگ کی وجہ سے بے گھر ہونے والے بچوں کی تھیں یا ان کے گھروں سے لی گئی تھیں اور ریڈ کراس انھیں ان کے خاندانوں سے ملانے کی مہم چلا رہی تھی۔'
اور ان کی تصویر انھی پوسٹروں میں شامل تھیلیکن وہ اپنے گھر والوں سے اس کے بارے میں بات کرنے کے قابل نہیں تھی۔ 'نہیں، نہیں، نہیں، یہ ایک بڑا راز تھا۔ مجھے ایسا لگا جیسے مجھے اپنی حفاظت کرنی ہے۔'
انگرڈ نے ایک فزیکل تھراپسٹ کے طور پر اپنا کریئر بنایا اور اپنی زندگی بنائی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ ایریکا ماٹکو کون ہے۔
'میرے فزیو تھراپسٹ ڈپلومہ پر یہی نام درج تھا۔ اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔'
سنہ 1999 میں جب وہ 58 سال کی تھی اور اپنی فزیکل تھراپی کا کلینک چلا رہی تھیں تو انھیں ریڈ کراس کی طرف سے ایک کال موصول ہوئی جس میں پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنے والدین کے بارے میں جاننے میں دلچسپی رکھتی ہے۔
'میں نے فوراً کہا ہاں، میں ان سے ملنا چاہتی تھی، لیکن ریڈ کراس نے اس خیال پر پیش رفت نہ کی۔ اس کے بجائے انھوں نے مجھے اپنی تاریخ کے بارے میں کچھ جاننے میں مدد کرنے کے لیے ایک تاریخ دان سے رابطہ کیا۔'
اسی دوران انگرڈ نے کچھ دستاویزات کا جائزہ لیا جو انھیں موصول ہوئی تھیں اور اس میں اُنھوں نے کچھ غیر معمولی چیزیں دیکھیں۔
'میرے پاس چکن پاکس کی ویکسینیشن کا فارم تھا۔ اس دستاویز پر ایک نازی ڈاکٹر ہیش نے دستخط کیے تھے، اور اس پر میرا نام، تاریخ اور جائے پیدائش درج تھی، اور کہا تھا کہ میں ایک جرمن شہری ہوں۔ لیکن اس پر لفظ 'لیبینزبورن' (Lebensborn) بھی تھا۔'
انھوں نے اس کے بارے میں کبھی نہیں سنا تھا، لہذا انھوں نےاسے آن لائن دیکھااور مختلف لائبریریوں میں گئیں یہاں تک کہ اسے درج ذیل تفصیلات مل گئیں۔
'لیبینزبورن کا مقصد نسلی اور جینیاتی طور پر قیمتی حاملہ خواتین کی نگہداشت کرنا اور ان کی دیکھ بھال کرنا ہے، جن سے اپنے خاندانوں اور بچوں کے والدین کی محتاط تحقیقات کے بعد ان سے اتنے ہی قیمتی بچوں کی پیدائش کی توقع کی جا سکتی ہے۔ یہ خیال مجھے ناگوار لگا۔ اور میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میں ان بچوں میں سے ایک ہو سکتی ہوں۔'
زیادہ سے زیادہ غیر آریاؤں کو مارتے ہوئے ایک نام نہاد 'اسٹر ریس' (اصیل نسل) بنانے کی کوشش میں نازیوں نے نئے آریاؤں کو دنیا میں لانے کے منصوبے بھی شروع کر دیے تھے۔
'لیبینزبورن ایس ایس (شوٹزسٹافل) کا ایک پروگرام تھا، جو کہ نازی پارٹی کا ایک نیم فوجی ونگ تھا، اور اس نے نام نہاد آریائی ماؤں کے لیے گھر قائم کیے جن کے پاس وہ جرمنائزیشن کے مقصد کے لیے پولینڈ، ناروے اور یوگوسلاویہ سے چوری کیے گئے بچوں کو بھی لاتے تھے۔'
'انھوں نے نیلی آنکھوں والے سنہرے بالوں والے بچوں کا انتخاب کیا۔'
اس دوران انگرڈ کی مدد کرنے والے مؤرّخ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وہ سلووینیا سے آئی تھی۔ انگرڈ نے سلووینیائی حکام کو خط لکھا اور پوچھا کہ کیا ان کے پاس اس بارے میں کسی قسم کی کوئی معلومات ہیں۔
'مجھے ایک دستاویز موصول ہوئی جس میں کہا گیا تھا کہ میری والدہ کا نام ہیلینا تھا اور میرے والد کا نام جوہن ماٹکو تھا اور ان کی ایک بیٹی تھی جس کا نام ایریکا تھا۔'
لیکن تھوڑی عرصے بعد انھیں دوسرا خط موصول ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ اس جوڑے کی بیٹی ایریکا ماٹکو زندہ ہے اور سلووینیا میں ہے اس لیے وہ یہ خود نہیں ہو سکتیں۔
انگرڈ اس دوسری ایریکا کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئیں لیکن وہ اس سے ملنا نہیں چاہتی تھی۔
تاہم ان کے بھانجے سمیت خاندان کے دیگر افراد نے اس سے بات کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور ڈی این اے ٹیسٹ کرانے پر رضامندی ظاہر کی۔
انگرڈ نے بتایا کہ 'نتائج سے ظاہر ہوا کہ میں اس خاندان سے 90 فیصد سے زیادہ تعلق رکھتی ہوں۔'
انھوں نے یہ بھی ظاہر کیا کہ 93.3 فیصد امکان ہے کہ انگرڈ ایریکا ماٹکو کے بھانجے کی خالہ تھی اس لیے دوسری ایریکا شاید اصل ایریکا نہیں تھی۔
'میں نے دستاویز پڑھی اور سوچا کہ میرا ان سے تعلق ہے۔ یہ میرا خاندان ہے۔ میں نے دوسری ایریکا کو خط لکھا، لیکن مجھے کبھی جواب نہیں ملا۔ ایک طرف تو میں بہت خوش تھی کہ میں نے اپنے خاندان کو تلاش کر لیا ہے لیکن میں یہ بھی سوچتی تھی کہ دوسری ایریکا اس خاندان میں کیسے شامل ہو گئی، اور میں فکر مند تھی کہ کہیں میں اسے اس خاندان سے نکال تو نہیں رہی ہوں۔ اور میرے گھر والوں نے مجھے تلاش کیوں نہیں کیا؟ یہ ایک بہت ہی الجھا ہوا معمہ تھا۔'
کئی سال اس معمے کے آخری ٹکڑے کے تلاش کرنے کے بعد یہ حل ہوا۔ ایسا اس وقت ہوا جب انگرڈ بالآخر نازی دستاویزات کی فائل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔
ان دستاویزات سے انکشاف ہوا کہ انگرڈ کے حقیقی (حیاتیاتی) والد، جوہان ماٹکو، یوگوسلاویہ پر نازی قبضے کے خلاف لڑنے والے ایک مزاحمتی جنگجو تھے۔
پکڑے جانے کے بعد انھیں حراستی کیمپ میں بھیج دیا گیا اور اگست سنہ 1942 میں انگرڈ کی والدہ کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنے تین بچوں کو، بشمول نو ماہ کی ایریکا، کو ایک مقامی اسکول میں لے جائے۔
'میری والدہ ہم سب کو اسکول لے گئیں اور وہاں جرمن فوجیوں کے ساتھ ایک ٹرک پہنچا۔ بچوں کو ان کے خاندانوں سے الگ کر دیا گیا تھا۔'
ایریکا نیلی آنکھوں اور سنہرے بالوں والی ایک بچی تھی اور نازیوں نے اسے جرمنی لے جانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بھائیوں کو ان کی ماں کے ساتھ واپس گھر بھیج دیا گیا۔
لیکن انگرڈ کے مطابق اس کے بعد دستاویزات میں واقعات واضح نہیں ہیں۔
'وہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایریکا ماٹکو کو لیبینزبورن پروگرام کے میں شامل کر لیا گیا تھا۔ لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ میری ماں تین بچوں کے ساتھ آئی تھی اور تین بچوں کے ساتھ چلی گئی تھی۔'
تو کیا دوسری لڑکی دوسرے خاندان کی بیٹی تھی۔
اس بچی کی پرورش انگرڈ کے حقیقی (حیاتیاتی) والدین نے کی جنھوں نے نہ صرف انھیں ایریکا ماٹکو کا نام دیا بلکہ جنگ ختم ہونے کے بعد بھی کبھی بھی اپنی حیاتیاتی بیٹی کو نہیں اٹھایا اور نہ ہی یہ ظاہر کیا کہ وہ ان کی بیٹی نہیں تھی۔
'تھوڑی دیر کے لیے میں ان سے، خاص طور پر اپنی ماں سے نفرت کرتی رہی۔ وہ کیسے مجھے چھوڑ کر مجھے ڈھونڈنے نہیں آئی؟ لیکن پھر میں نے سوچا کہ پہلے نازیوں کے قبضے اور اس کے بعد کی کمیونسٹ حکومت کے ساتھ اُس کی (یعنی ماں کی) زندگی مشکل تھی۔ عقلی طور پر میں شاید اسے سمجھنے کی کوشش کر سکتی تھی، لیکن نفسیاتی طور پر میں نے ہمیشہ محسوس کیا کہ اسے مجھے تلاش کرنا چاہیے تھا۔'
ابھی بھی بہت سارے سوالات کے جوابات تلاش کرنا باقی ہیں لیکن انگرڈ اپنے بارے میں اور جو کچھ اس کے ساتھ ہوا، اس کے بارے میں مزید جان کر خوش ہیں۔
’میں سلووینیا میں اتنے شاندار لوگوں سے ملی ہوں کہ کبھی کبھی میں تصور کر سکتی ہوں کہ میں ان کے ساتھ پلی بڑھی ہوں۔'
ایک تربیت یافتہ فزیکل تھراپسٹ کے طور پر انگرڈ نے اپنے کریئر کو معذور بچوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے وقف کر دیا ہے، ایسے بچے جنہیں نازی 'ماسٹر ریس' کے پروگرام کی وجہ سے اپنے خاندانوں سے جدا کردیا گیا تھا۔